امریکی اور افغان فوجیوں کی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری

ہیرات،16مئی﴿یو این آئی﴾ افغان صوبے فراہ کے دارالاحکومت میں طالبان کی جانب سے حملے کے بعد امریکی اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی، جس کی وجہ سے شہری بھی متاثر ہوئے ۔ روزنامہ 'ڈان ' کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان صوبے قندھار اور ہیرات کی اسپیشل فورسز نے بھی اس لڑائی میں حصہ لیا جس کے حوالے سے مقامی افراد کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی رات گئے شروع ہوئی جو کافی دیر تک جاری رہی۔ خیال رہے کہ یہ طالبان کی جانب سے ناٹو روسز کے افغانستان سے انخلائ کے بعد شہری علاقوں پر قبضے کے لیے کیے جانے والے حملوں میں تازہ حملہ ہے ۔ سیکورٹی فورسز کے مطابق فراہ کا دارالخلافہ اب حکومت کے کنٹرول میں ہے ، لیکن طالبان کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر تصاویر شائع کی گئیں کہ یہ علاقہ مبینہ طور پر طالبان کے قبضے میں ہے ۔واضح رہے کہ افغان صوبہ فراہ، جس کی سرحد ایران سے ملتی ہے ، گزشتہ چند سالوں سے شدید لڑائی کا مرکز بنا رہا ہے ، اور اسے ایک پر خطر شہر سمجھا جاتا ہے ۔ قبائلی عمائدین نے اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس شہر میں حالات بہت ابتر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں شدید لڑائی جاری ہے اور طالبان بھی علاقے میں موجود ہیں، تاہم افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور پولیس ہیڈ کوارٹر نے بھی اپنے گھٹنے نہیں ٹیکے ہیں۔ ایک صوبائی کونسل کے ممبر داداللہ قانی نے قبائلئ عمائدین کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ طالبان اور این ڈی ایس ہیڈ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور علاقے میں فائرنگ اور بم کی آوازیں سنی گئیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں