نواز شریف کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست منظور

اسلام آباد/ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے خلاف کے غداری کا مقدمہ درج کرنے اور ان کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی ہے۔ یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر یہ کہا تھا کہ ان کے پاس بہت سے قومی راز ہیں جن کو وہ افشا بھی کر سکتے ہیں۔ ان کے اس اقدام سے پاکستان کے اہم قیمتی رازوں سے دنیا آشنا ہو سکتی ہے۔ بابر اعوان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کا یہ اقدام ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا جائے۔ اس درخواست میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور پیمرا کے چیئرمین کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے قبل منگل کو احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا تھا کہ ملک کیاندر اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اور پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی تھی۔ احتساب عدالت میں بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔انہوںنے سوال کیا آپ بتائیں کہ دنیا میں کون سا ملک دہشت گرد ہے؟ انہوںنے ایک بار پھر کہا کہ ان کے انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔ خیال رہے کہ پیر کو فوج کی درخواست پر بلائے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں