آلو چی باغ تعمیر و تر قی کے میدان میں نظر انداز کیوں؟

سرینگر / ایم ایم میر کے مطابق الوچی باغ کے تمام تعلیم یافتہ نوجوانوں اور بزرگ شخصیتوں کو اس حقیقت کا بخوبی علم ہے کہ الوچی باغ کے سارے علاقے کو ہمیشہ تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں نظر انداز کیا گیا اور کئی برسوں سے یہاں کے لوگوں کی مانگیں، مسایل اور جذبات کا احترام نہیں کیا گیا ہے حالانکہ مسلمان اور سکھ برادری کے لوگ ہمیشہ مل جُل کر تعمیر و ترقی کیلئے حکومت سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ الو چی باغ کے سارے علاقے میں سڑکوں پر میکڈم کا حال بچھا یا جائے لیکن نا معلوم و جوہات کی بنا پر R&Bشعبے نے دربار مو سے پہلے الوچی باغ کی سڑکوں کی تعمیر نو میں اپنی غیر ذمہ داریوں کا ثبوت دیا ہے حالانکہ حکومت کشمیر میں750کلومیٹر سڑکوں پر میکڈم بچھانے کے عظیم منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف عمل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سرینگر کا یہ خوبصورت علاقہ آجکل گردو غبار اور خستہ حال ماحول کی آلود گی کا شکار ہوا ہے۔ جس سے ہمارے بچوں کی صحت بگڑ جانے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ الوچی باغ بنڈ پر فٹ برج جو پچھلے2014÷ئ کے ہولناک سیلاب کی زد میں آکر بہہ گیا تھا جس سے ہزاروں لوگوں کی آمد رفت متاثر ہو چکی ہے اور آر پار علاقوں سے مکمل رابطہ کٹ گیا ہے۔ جس کو ترجیحی بنیادوں پر از سر نو تعمیر کرانا یہاں کے MLAکی اولین ذمہ داری ہے۔ حالانکہ وہ عوام کے Constituency Fundسے یہ کام پائے تکمیل تک پہنچانے میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں فٹ برج کی عدم دستیابی سے یہاں کے عوام کی سخت پر یشانیوں کا سامنا ہے اور انھیں روز مرہ کی اشیاے ضرورت اپنی منزل تک صیحح سلامت پہنچانے کیلئے لمبے فاصلے کو طے کرنا پڑتا ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ وزیر تعمیرات نے جائے واردات پر آنے کی کبھی بھی زحمت گوارانہ کی۔ جس پر الوچی باغ کے سبھی باشند گان میں سخت ناراضگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حالانکہ اس فٹ برج کی موجود گی سے ہمارے بچوں کو کئی حادثات کے رونما ہونے سے مکمل تحفظ حاصل ہو گا۔ بحیثیت سا بقہ ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن ، سپورٹس رائیٹر اور فٹ بال کوچ امر سنگھ کالج میں الوچی باغ کے ہزاروں لوگوں کی طرف سے وزیر اعلیٰ، وزیر تعمیرات جناب نعیم اختر ، چیف انجینر R&Bاور MLAجناب نور محمد شیخ پر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ الوچی باغ کے پورے علاقے کو اپنے تعمیری منصوبوں میں نظر انداز نہ کریں۔ میں یہاں کے عوام سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ آپسی اختلافات اور شکوے شکایات چھوڑ کر الو چی باغ کے روشن مستقبل بنانے کے لئے ایک جُٹ ہو کر کام کریں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں