مزاحمتی قیادت نے جنگ بندی کو ایک ’’مذاق‘‘ قرار دیا ,,

,

,

سرینگر//﴿آفتاب ویب ڈیسک ﴾ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے نئی دلی کی جانب سے ماہ رمضان کے دوران جموں کشمیر میں جنگ بندی کرنے کے اعلان کو ایک ’’مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ریاست کے لوگ عارضی جنگ بندی کے شوشوں کے بجائے مکمل اور دائمی جنگ بندی کے خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لئے حق خود ارادیت کی جائز اور مبنی پر حق تحریک چلارہے ہیں، جس کو کچلنے کے لیے بھارت نے اپنی تمام تر فوجی طاقت کو میدانِ میں جھونک دیا ہے۔‘‘اس ضمن میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے موصولہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’بھارت تنازعہ کشمیر کو حقِ خودارادیت جیسے مسلمہ بین الاقوامی فارمولے یا بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے ریاست جموں کشمیر کے ستم رسیدہ عوام کو ماہِ رمضان کے دوران قتل وغارت میں عارضی چھوٹ دینے کی طفل تسلیوں میں یقین رکھتا ہے۔ ‘‘مزاحمتی قیادت نے ’’بھارت کے ارباب اقتدار کو ایک بار پھر صلاح دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ انسانی ہمدردی کا کوئی جذبہ موجود ہے تو پھر انہیں ریاستی عوام کے حق میں رائے شماری کے فارمولے کو عملانے یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل تلاش کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مزاحمتی قیادت شدت کے ساتھ یہ محسوس کرتی ہے کہ تنازعہ کشمیر کو عوامی امنگوں کے مطابق حل کرنے سے ہی نہ صرف ریاست جموں کشمیر بلکہ پورے برصغیر میں دائمی امن وامان قائم ہوسکتا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے ریاست کے حریت پسند عوام سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 19/مئی بروز سنیچر لالچوک چلو پروگرام کو کامیاب بناتے ہوئے اس روز تمام کاروباری اداروں کو بند رکھیں۔

,

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں