کمسن بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے مرتکب افراد کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا کے قانون کو گورنر کی منظوری

سرینگر//﴿آفتاب ویب ڈیسک ﴾ ریاستی گورنر نے کمسن بچیوں کی عصمت دری کے مرتکبین کو عمر قید اور پھانسی کی سزا سے متعلق قانون کو منظوری دے دی ہے۔ریاستی کابینہ نے اس ضمن میں آرڈیننسز کو گذشتہ ماہ منظوری دیکر ریاستی گورنر کے پاس بھیجا تھا۔ فوجداری قانون ﴿ترمیمی﴾ آرڈیننس 2018‘ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ 12 سال سے کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے قصورواروں کو موت کی سزا دی جائے گی۔متذکرہ آرڈیننس کا مسودہ مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے طرز پر ہے۔ آرڈیننس میں التزام ہے کہ 12 سال سے کم عمر کی بچی کے ساتھ عصمت دری کرنے والے مجرم کو عمر قید کی سزا یا سزائے موت دی جائے گی۔ 13 سے 16 سال تک کی عمر کی بچی کے ساتھ عصمت دری کرنے والے مجرم کو 20 سال یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ آرڈیننس میں التزام ہے کہ 12 سال سے کم عمر کی بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے مجرم کو پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ 13 سے 16 سال تک کی عمر کی بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے مجرم کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ آرڈیننس کے مطابق بچیوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے تمام واقعات کی تحقیقات خاتون پولیس عہدیدار کی سرپرستی میں ہوگی۔ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنی ہوگی۔ عدالتوں کی جانب سے ٹرائل چھ ماہ کے اندر مکمل کرلی جائے گی۔ جبکہ اپیل کے لئے بھی چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ایسے تمام واقعات کی ٹرائل کیمروں کی نگرانی میں ہوگی۔ ضمانت کے شرائط کو سخت کردیا گیا ہے اور کسی ملزم کو آسانی سے ضمانت نہیں ملے گی۔ آرڈیننس کے مطابق مجرموں کی جانب سے ادا کیا جانا والا جرمانہ متاثرین کو دیا جائے گا۔ یہ جرمانہ اس وقت سرکاری خزانے میں جمع ہوتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں