نیپاہ وائیرس اور حکومت کی خاموشی

ریاست میں نیپاہ وائیرس کے پھیلنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجارہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جس طرح یہ وائیرس کیرالہ میں پھیل گیا اس طرح یہ وائیرس یہاں بھی پھیل سکتا ہے کیونکہ یہ وائیرس جانور سے انسان اور انسان سے انسان میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا اب تک کوئی بھی علاج نہیں ہے اور جو لوگ اس وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں ان کے مقدر میں موت ہی لکھی ہوتی ہے۔ یہ فروٹ بیٹس اور پھل کھانے والے چمگاڈروں سے پھیلتا ہے ایک پرانا محاورہ مشہور ہے کہ ’’اس کا کاٹا پانی تک نہیں مانگتا ہے ‘‘یہ محاورہ اسی وائیرس پر بھی صادق آتا ہے کیونکہ اب تک کی رپورٹس کے مطابق جو لوگ اس کا شکار ہوجاتے ہیں وہ کبھی بھی صحت یاب نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کے مقدر میں موت ہی لکھی ہوتی ہے ۔ جیسا کہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ایک نرس سمیت اس بیماری میں مبتلا ہونے والے ایک درجن سے زیادہ افراد اس کا شکار ہوکر موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی یو این آئی کے مطابق نیپا ہ وائیرس کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر جہاں پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کی حکومت نے الرٹ اور ایڈوائیزری جاری کردی ہے وہیں ہماری ریاستی حکومت نے ابھی تک اس بارے میں کوئی کاروائی نہیں کی ہے ۔ نہ ایڈوایزری جاری کردی گئی اور نہ ہی احتیاطی تدابیر اٹھائی جارہی ہیں۔ محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ گذشتہ سرما میں جب جموں میں سوائین فلو پھیل گیا تو ریاستی حکومت نے مختلف مقامات جیسے ریلوے سٹیشنوں، ہوائی اڈوں اور بس سٹینڈوں اور دوسرے پبلک مقامات پر خصوصی چیک اپ سنٹرس قایم کئے تھے۔ لیکن اب کی بار ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ہے اس نے بتایا ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ابھی تک کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال وغیرہ میں اس کیلئے مخصوص وارڈ قایم نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو بتایا جارہا ہے کہ ان کو کیا اور کون سی احتیاطی تدابیر اٹھانی چاہئے۔ اس افسر نے بتایا کہ اب تک محکمہ صحت نے اس معاملے پر کوئی میٹنگ بھی طلب نہیں کی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مرکزی وزارت صحت اور فیملی ویلفیئر نے پہلے ہی ریاستوں کے نام ایڈوائیزری جاری کی ہے۔ لیکن یہاں حکومت خواب خرگوش میں ہے اس وائرس کی وجہ سے نہ صرف اس وقت کیرالہ میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے بلکہ دوسری ریاستوں میں لوگ خوفزدہ ہیں اور کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ کیا کچھ کرنا ہے اور کونسی سی احتیاطی تدابیر اٹھانی ہیں۔ ہماری ریاست ایک ٹورسٹ سٹیٹ ہے اور یہاں کسی بھی ملک کے سیاح اور دوسرے لوگ آجاسکتے ہیں اسلئے ریاستی محکمہ صحت کو بغیر تاخیر لوگوں کو اس وائیرس سے بچانے کیلئے اقدامات کرنے ہونگے تاکہ یہ یہاں نہ پھیل سکے ۔ اس کیلئے سرینگر کے ہوائی اڈے اور لورمنڈا کے قریب چکنگ سنٹر قایم کرنے ہونگے تاکہ یہان کوئی ایسا سیاح نہ آسکے جو اس وائرس سے متاثر ہوا ہو۔ اس کے علاوہ جموں ریلوے سٹیشن پر بھی اسی طرح کے مرکز قایم کرنے چاہئیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں