امن کو موقعہ دیاجانا چاہئے

بھارت کے نائب صدر وینکیا نائیڈو نے کل جموں میں ایک تقریب پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ امن کو ایک موقعہ ضرور دینا چاہئے اور بھارت چاہتا ہے کہ وہ اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسایل کا حل تلاش کرے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ موجودہ صورتحال میں رہنا پسند کرتے ہیں یا امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت کی تمام ریاستیں تعمیر و ترقی کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں لیکن جموں کشمیر پیچھے کیوں ہے ؟ جہاں تک بھارت کے نائب صدر کے متذکرہ بالا بیان کا تعلق ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کشمیر کے بارے میں پوری جانکاری نہیں ہے ورنہ وہ یہ ہرگز نہیں کہتے کہ کشمیری عوام کن حالات میں رہنا پسند کرینگے۔ کیونکہ کشمیری ابتدا ئ سے ہی امن کے پجاری رہے ہیں اور کسی بھی قیمت پر وہ دنگا فساد یا تشدد کے حامی نہیں ہیں۔ لیکن یہاں حالات اس طرح بنائے گئے کہ کشمیری عوام ایک ایسے جال میں پھنس گئے کہ وہ سمجھ نہیں پارہے ہیںکہ ان کو کیا کرنا ہے۔ کشمیر سے باہر کشمیریوں کیخلاف زہریلا پروپاگنڈا کیا جارہاہے بیرون ریاست لوگوں کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کشمیری تشدد پسندہیں اور دنگا فساد کروانے میں یقین رکھتے ہیں جبکہ حقایق اس کے برعکس ہیں۔ حالات و واقعات کے تسلسل کا جب جائیزہ لیاجاتا ہے تو کشمیری سب سے زیادہ ستم زدہ نظر آتے ہیں۔ حالات جو بھی رُخ اختیار کرتے ہیں کشمیری عوام متاثر ہوجاتے ہیں۔ کہیں سے بھی گولی چلے گی نشانہ معصوم کشمیری کا سینہ بنتا ہے۔ کوئی بھی کشمیری یہ نہیں چاہتا ہے کہ جبر وتشدد کا سلسلہ جاری رہے اسلئے اس پر فوری طور روک لگانی چاہئے اور قیام امن کیلئے کوششوں کو آگے بڑھانا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی پاکستان کے ساتھ بات چیت کو اگرچہ لازمی قرار دیا لیکن اس کے باوجود خاتون وزیر خارجہ نے کہا کہ تشدد اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں اسلئے بقول ان کے پاکستان کو اپنی سرزمین دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے اور بقول ان کے جب ایسا ہوگا تب بھارت اور پاکستان کے درمیان وسیع مذاکراتی عمل شروع کیاجاسکتا ہے۔ وزیر خارجہ کے اس طرح کے بیانا ت اکثر و بیشتر اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ ان میں کوئی نئی بات نہیں جدت نہیں وہی گھِساپٹا پرا نا بیان ہے جو بار بار دہرایا جاچکا ہے۔ بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کے تئیں سوچ اور اپروچ میں جدت لانی چاہئے تب کہیں جاکر متنازعہ مسایل کا حل ایک خوشگوار ماحول میں تیا ر کیا جاسکتا ہے۔ بات چیت سے ہر مسئلہ حل کیاجاسکتا ہے لیکن اس کیلئے لازمی ہے کہ اس کیلئے مناسب ماحول بھی تیار کیاجائے۔ زمینی سطح پر تیاریاں کی جائیں تب کہیں جاکر پر خلوص انداز میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہوسکتا ہے۔ ورنہ روائیتی بیان بازیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں