مذاکرات کیلئے کوششیں جاری رکھی جائیں

مرکزی حکومت کی طرف سے حریت کو جو مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی اس پر حریت نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کی طرف سے بات چیت کے حوالے سے مبہم اور غیر واضح بیان دیا گیا۔ حریت رہنمائوں نے کہا کہ وزیر داخلہ ایک جانب حریت اور پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے بارے میں بیان دے رہے ہیں تو دوسری طرف ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری ہمارے ہیں۔ اسی طرح وزیر خارجہ سشما سوراج نے مذاکرات کو پاکستان کی طرف سے بقول ان کے دہشت گردی بند کرنے سے مشروط کردیا۔ حریت رہنمائوں نے کہا کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے رمضان جنگ بندی صرف لوگوں کیلئے ہے نہ کہ عسکریت پسندوں کیلئے اور اسی اثنا ئ میں پولیس چیف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی بندوق برداروں کی گھر واپسی کیلئے ہے۔ متذکرہ بالا بیانات کو تضادات سے پرُ قرار دیتے ہوئے حریت رہنمائوں نے کہا کہ ان کھلے تضادات کے ماحول میں مذاکرات کی آخر کونسی صورت بچ پاتی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کو حل کیاجاسکتا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے اپنے بیان میں حکومت ہند کو مشورہ دیا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے بانت بانت کی بولیوں اور مبہم آمیز لب و لہجہ میں بات کرنے کے بجائے واضح طور پر مسئلہ کشمیر کے دایمی تصفیے کیلئے سہہ فریقی مذاکرات کے انعقاد کیلئے جب ماحول کو ساز گار بنایا جائے گا تو مذاحمتی قیادت ایسے سنجیدہ نوعیت کے مذاکراتی عمل میں شامل ہونے میں دیر نہیں کریگی۔ یہ حریت لیڈروں کا ردِ عمل ہے اور اسی روز مرکزی وزیر داخلہ نے ایک اہم بیان میں کہا کہ کشمیر میں فوج کے ہاتھ باندھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں امن قایم رکھنا فوج کی ترجیحات میں شامل۔ اور اگر کسی نے امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو فوج کی طرف سے اسے کرارا جواب ملے گا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ مرکز کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے۔ لیکن اس کیلئے ساز گار ماحول کا ہونا ضروری ہے۔ غرض فریقین کی طرف سے عمل اور ردعمل ظاہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس دوران یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے کہ بات چیت نہیںہوگی کیونکہ مرکزی حکومت کے چھوٹے بڑے لیڈر کشمیر کے بارے میں آج ایک اور کل دوسرا بیان جاری کرکے اس پورے معاملے کو انتشار میں مبتلا کرتے ہیں۔ اگر مرکز واقعی کشمیری رہنمائوں کے ساتھ بات چیت کے حق میں ہے تو اسے سب سے پہلے بیان بازیوں کا سلسلہ بند کرنا چاہئے اور مزاحمتی رہنماوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ان کی طرف سے جن تحفظات کا اظہار کیاجارہا ہے ان کو دور کرنا چاہئے تب کہیں جاکر مناسب اور معقول ماحول میں بات چیت ہوسکتی ہے اس میں پیشگی شرایط اگر ڈال دے جاینگے تو مذاکراتی عمل کا شروع ہونا مشکل نظر آتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں