سانحہ نوہٹہ اور عدل و انصاف کے تقاضے

یکم جون بروز جمعہ شہر خاص میں ایک اور دلدوز سانحہ رونما ئ ہوا جس میں فورسز کی تیز رفتار گاڑی نے ایک کشمیری نوجوان کو اپنی زد میں لاکر کچل کررکھدیا۔ یہ سانحہ جامع مسجد کے قریب اس وقت پیش آیا جب عینی مشاہدین کے مطابق نوجوان احتجاجی مظاہرے کررہے تھے اور اس دوران ایک فورسز کی گاڑی نے ان کا پیچھا کیا اور کئی نوجوانوں کو فورسز ڈرائیور نے اپنی زد میں لاکر کچل کر رکھدیا زخمیوں کو فوری طور ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں رات گئے ایک نوجوان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ اس سے قبل نورباغ کے علاقے میں بھی جب نوجوان احتجاجی مظاہرے کررہے تھے تو پولیس گاڑی کے ڈرائیور نے اسی طرح ایک نوجوان کو اپنی گاڑی کی زد میں لاکر موت سے ہمکنار کردیا۔ ا س وقت اس سانحہ کیخلاف جب لوگوں میں زبردست غم و غصہ پیدا ہوگیا تو پولیس نے اعلان کیا کہ گاڑی کے ڈرائیور کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا اور اسی طرح کل نوہٹہ میں جو واقعہ رونمائ ہوا اس کے بارے میں بھی پولیس کا دعویٰ ہے کہ سی آر پی ڈرائیور کیخلاف تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کی پاداش میں مقدمہ درج کیا گیا۔ لیکن جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ اس کیخلاف کوئی ایسی کاروائی نہیں ہوسکتی جس سے عام لوگوں کو اس بات کی تشفی ہوسکتی ہے کہ اس معاملے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا گیا۔ کیونکہ اس ریاست میں افسپا نافذ ہے اور اس قانون کے تحت فورسز کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے اور ان کو کسی بھی احتسابی عمل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ کئی برس قبل فورسز نے چھتر گام میں ایک ماروتی گاڑی میں سوار تین نوجوانوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔ بتایاجاتا ہے کہ جو گاڑی چلارہاتھا اس نے گاڑی تھوڑی سی آگے لے جاکر سائیڈ پر روک لی تاکہ دوسری گاڑیاں آسانی سے آجاسکیں لیکن فورسز اہلکاروں نے ان پر پیچھے سے اندھا دھند گولیاں چلائیں جس سے تینوں جاں بحق ہوئے۔ اس وقت بھی پولیس نے کیس رجسٹر کیا۔ لیکن کسی بھی اہلکار کیخلاف قتل کا مقدمہ نہیں چلایا گیا کیونکہ افسپا کے تحت ان کو اس طرح کی کاروائیاں کرنے کی کھلی چھوٹ ہے ۔ اس کے بعد ایسے درجنوں واقعات رونما ہوئے جن میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو موت سے ہمکنار کردیا گیا۔ لیکن آج تک کسی بھی فورسز یا فوجی اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔ اور اب کل کا جو واقعہ رونما ئ ہوا اس میں بھی فورسز ڈرائیور نے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرکے ایک نوجوان سے اس کی زندگی چھین لی اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ا سکے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ریاستی حکومت اقدامات کرے کیونکہ جو نوجوان اس سانحے میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھا وہ والدین کی شفقت سے محروم بتایا گیا اور اس کی2غیر شادی شدہ بہنیں ہیں اسلئے ان کی روزی روٹی کا انتظام کرنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں اور اس کے ساتھ ہی اس سی آر پی ڈرائیور کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کیاجانا چاہئے اور مرکزی وزارت داخلہ سے اجازت حاصل کرنے کے بعد اس کیخلاف آر پی سی کے تحت قتل کا مقدمہ چلایا جاسکے۔ اس بارے میں انتظامیہ کو فوری کاروائی عمل میں لائی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں