ہسپتالوں میں Prescription Audit لازمی قرار دیا جائے

وادی کے انسان نواز اور غریب دوست ڈاکٹروں نے ایک تنظیم کا قیام عمل میں لایا ہے جو وقتاًفوقتاًلوگوں کو علاج و معالجے کے بارے میں جانکاری دیتے رہتے ہیں اور یہ بات سچ ہے کہ آج تک ڈاکٹرس ایسو سی ایشن آف کشمیر نے لوگوں کی توجہ جن اہم نکات کی جانب مبذول کروائی اور ان پر عمل کرکے لوگ فایدے میں ہی رہے چونکہ ایسوسی ایشن صحت سے متعلق ہی معاملات کے بارے میں جانکاری دیتی ہے جن پر عمل در آمد سے لوگوں کو فایدہ ہی ملتا ہے ۔حال ہی میں اس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے لوگوں کی توجہ ہسپتالوں میں دی جانی والی غیر ضروری ادویات کی طرف مبذول کروائی اور تجویز پیش کی کہ ہسپتالوں میں Prescription Auditہونا چاہئے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کہیں ڈاکٹر مریضوں کو غیر ضروری ادویات کا استعمال کرنے کی صلاح دیکر ان کی صحت کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں کرتے ہیں۔ اس بارے میں اپنی اس تجویز کا بھر پور اندازمیں خلاصہ کرتے ہوئے ڈاکٹر موصوف کا کہنا ہے کہ اکثر ڈاکٹر سردی زکام کے دوران مریضوں کو انٹی بیاٹک کا استعمال کرنے کی صلاح دیتے ہیں لیکن بقول ڈاکٹر اس سے مریضوں کا کوئی افاقہ نہیں ہوتا ہے۔ اسی طرح وایرل ڈہیریاپر قابو پانے کیلئے بھی انٹی بیاٹک تجویز کیاجاتا ہے جبکہ اس کے بدلے اگر ڈاکٹر مریض کو صرف Fluidsکا استعمال کرنے کی صلاح دیتے تو مریض فوری طور پر صحت یاب ہوسکتا ہے لیکن فارما کمپنیوں سے تحفے تحایف حاصل کرنے کیلئے ڈاکٹر بقول ان کے غیر ضروری طور پر انٹی بیاٹک استعمال کرنے کی صلاح دیکر فارما کمپنیوں کیلئے منافع فراہم کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ ڈاکٹر اپنے فرایض منصبی سے منہ موڑتے ہیں۔ اور غریب اور لاچار مریضوں سے دغا کرتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ استھما میں مبتلا مریضوں کو بھی ڈاکٹر انٹی بیاٹک تجویز کرتے ہیں جبکہ استھما کے مریضوں کو اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی ہے۔ جو لوگ الرجی میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو بھی خود غرض ڈاکٹر انٹی بیاٹک استعمال کرنے کی صلاح دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ بقول ایسوسی ایشن صدر فارما کمپنیوں سے تحفے تحایف حاصل کرنے کیلئے کیا جاتا ہے جبکہ پرسکرپشن آڈٹ سے اس بات کا پتہ چل سکتا تھا کہ کہیں ڈاکٹر فارما کمپنیوں کو منافع فراہم کرنے اور اپنے لئے تحفے تحایف حاصل کرنے کیلئے غیر ضروری ادویات استعمال کرنے کی صلاح تو نہیں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بازار میں سستی جنرک ادویات دستیا ب ہیں اور ڈاکٹر وں کیلئے یہ ادویات تجویز کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن ڈاکٹر فارما کمپینوں کے زیر اثر آکر ایسی قیمتی ادویات استعمال کرنے کی صلاح دیتے ہیں جو بالکل غیر ضروری ہوتی ہیں۔ قارئین کرام کو یا د ہوگا کہ اس سے قبل ان ہی کالموں میں ہم نے محکمہ صحت کے حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی تھی کہ کس طرح ڈاکٹر مسیحائی کا نہیں بلکہ قصائی کا روپ اختیار کررہے ہیں جن کو سخت سزا دینے کی ضرورت ہے اسلئے ہسپتالوں میں Prescription Audit کا سلسلہ فوری طور پر شروع کیاجانا چاہئے تاکہ غریب اور بے سہارا مریضوں کو ایسے ڈاکٹروں کے چنگل سے بچایا جاسکے جو فارما کمپنیوں سے تحفے تحایف اور نقد رقومات حاصل کرنے کیلئے مریضوں کو غیر ضروری ادویات تجویز کرکے ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں