تازہ معاہدہ صرف پانچ روز تک ہی برقرار رہا

 بھارت اور پاکستان کے درمیان پانچ روز قبل سال 2003کے جنگ بندی معاہدے کا اعادہ کرنے کے بارے میں جو عہد و پیمان باندھے گئے تھے وہ سوکھے پتوں کی طرح بکھر کر رہ گئے کیونکہ ابھی اس معاہدے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ سرحدوں پر پھر سے دنا دن شروع ہوگیا اور شدید گولہ باری کے نتیجے میں بھارت کے دو سپاہی مارے گئے۔ اور کئی عام شہریوں سمیت ایک درجن سے زیادہ افرادزخمی ہوگئے جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائی گئی۔ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ صرف پانچ روز قبل بھارت اور پاکستان کے ڈائیریکٹر جنرل ملٹری اوپریشنز کے درمیان اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ سال 2003میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا جو معاہدہ ہواتھا اسے ہر صورت میں برقرار رکھا جائے گا اور کسی بھی صورت میں اب اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ اس معاہدے کا وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے زبردست خیر مقدم کیا ہے جبکہ امریکہ اور اقوام متحدہ نے بھی اس معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیا لیکن اس کے صرف پانچ روز بعد ہی جموں کے اکھنو ر سیکٹر میں پرگوال کے مقام پر ایسی خطرناک شلنگ ہوئی کہ دوفورسز اہلکار لقمہ اجل بن گئے۔ جبکہ اس گولہ باری سے دس عام شہری بھی زخمی ہوگئے جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شلنگ اس قدر شدید تھی کہ لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے جبکہ عورتیں، بچے اور بزرگ خوف سے تھر تھر کانپنے لگے ۔ چنانچہ جب انتظامیہ نے اس طرح کا حال دیکھا تو سرحدی پٹی پر رہنے والوں کو بلٹ پروف گاڑیوں میں بھر کر ان کو محفوظ مقامات پر لے جایا گیا۔ اکھنور سیکٹر کے بعد سانبہ اور دوسرے سیکٹروں میں بھی ایسی ہی صورتحال رہی اور لوگ رات بھر خوف و دہشت میں مبتلا رہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہی حال سرحد کے اُس پار بھی دیکھنے کو ملا۔ غرض اس سے ایک تو ہلاکتیں ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کسطرح تباہی اور بربادی لانے والے اس سلسلے کو ختم کیاجائے گا کیونکہ بات چیت شروع کرنے کے امکانات اب دور دور تک نظر نہیں آتے ہیں کیونکہ حکومت ہند کا بار بار کہنا ہے کہ بات چیت اور عسکریت پسندی ساتھ ساتھ نہیںچل سکتے ہیں۔ اور جب سرحد پر ہر دوسرے تیسرے روز شلنگ ہوگی اورآر پار ہلاکتیں ہونگی لوگ مررہے ہوں تو ان حالات میں مذاکراتی عمل اگر شروع ہوتو کیسے ؟ سیاسی حلقے بھی اس بارے میں خاصے پریشان ہیں کہ کس طرح سرحدوں پر آئے روز جو گولہ باری ہوتی ہے وہ بند کروائی جائے تاکہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان متنازعہ معاملات پر باضابط بات چیت کا آغاز ہوجائے تاکہ کسی نتیجے پر پہنچاجاسکے ۔ کیونکہ جب بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں انتشاری کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس کا زبردست اثر کشمیری عوام پر پڑتا ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ فریقین سرحدوں پرجنگ بندی سے متعلق معاہدے پر صدق دل سے عمل کرکے سرحدی آبادی کو روز روز کے انتشار سے نجات دلائیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں