پانی کی قلت کیلئے محکمہ خود ذمہ دار

گرمی کی شدت کے ساتھ ہی وادی میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اور اطلاعات کے مطابق تمام ندی نالوں، دریائوں اور تالابو ں چشموں میں پانی کی سطح ہر گذرتے روز کم ہوتی جارہی ہے۔ ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ایک انجینئرکے حوالے سے بتایا کہ اس وقت وادی مین جتنے بھی واٹر س واٹر ریزروئیر ہیں ان میں بہت کم مقدار میں پانی جمع ہے کیونکہ جب ندی نالے سوکھنے لگے تو واٹر ریزر وئیر میں کس طرح پانی جمع ہوسکتا ہے بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی ذخیرہ آب میں مناسب مقدار میں پینے کا پانی اطمینان بخش حد تک جمع نہیں ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وادی کے اہم ترین ذخیروں میں بھی اس وقت پانی بھاری مقدار میں موجودنہیں اور نہ ہی ضرورت کے مطابق ہی پانی موجود ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نہ صرف شہر سرینگر بلکہ پوری وادی میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ درجنوں مقامات پر لوگ جن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں احتجاج کرنے کیلئے سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں۔ جس سے اب لااینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے۔ اس بارے میں جانکارحلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت درجنوں واٹر سپلائی سکیمیں بیکار پڑی ہیں کیونکہ ان کی برسوں سے مرمت نہیں کی گئی ہے اور کئی واٹر سپلائی سکیموں کا یہ حال ہے کہ وہ معمولی مرمت کیلئے ترس رہی ہیں گویا معمولی رقم خرچ کرنے سے ہی ان کو چالو کیاجاسکتا تھا لیکن اس جانب انتہائی غفلت شعاری کا مظاہرہ کیاجارہا ہے ۔ اسی طرح دوسرے ایسے اسباب بھی ہیں جن کی وجہ سے اکثر گرمائی ایام میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے۔ اگر ندی نالوں، دریاوں اور چشموں تالابو ں میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے تو کیا وجہ ہے محکمے کے پاس ایسا کوئی میکنزم کیوں نہیں ہے کہ جس کی بنا پر واٹر ریزروئیرس میں پانی مناسب مقدار میں جمع کیاجاسکتا ہے ۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اب تک کیوں واٹر سپلائی سکیموں کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے جن کو معمولی مرمت کے بعد آسانی سے دوبارہ چالو کیاجاسکتا ہے۔ مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جو پائیپیں ذخیرہ آب سے ان علاقوں تک بچھائی گئی ہیں جہاں پانی پہنچایا جارہا ہے تو اکثر پائیپوں سے پانی کی کافی مقدار رس رہی ہے اس طرح روزانہ کتنا کیوسک پانی ضائع ہوجاتا ہوگا محکمہ اس وقت خواب خرگوش میں ہے اگر دیکھا جائے تو اس محکمے کی حالت بدتر ہورہی ہے۔ چاہئے سردیوں کا موسم ہو یا گرمیوں کا کشمیریوں کو ہمیشہ پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک خبر رساں ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ اب محکمے کی طرف سے پانی کا کٹوتی شیڈول لاگو کیاجارہا ہے پوچھا جاسکتا ہے کہ یہاں پانی کا کٹوتی شیڈول کب نہیں تھا۔ اب جبکہ صارفین باقاعدگی سے واٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ناکارہ واٹر سپلائی سکیموں کی مرمت نہیں کی جاتی ہے۔ شدت کی گرمی میں پینے کے پانی کی قلت کا تو سب لوگ اعتراف کرتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اتنی قلت نہیں ہوتی جتنی متعلقہ محکمے کی غفلت شعاری سے ہوتی ہے۔ اسلئے فوری طور پر ناکارہ سکیموں کی مرمت کیلئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کئے جانے چاہئے۔ اور ان علاقوں کی طرف دھیان دینا چاہئے جہاں اس وقت ہا ہاکار مچی ہوئی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں