ماہ ِ صیام میں دھوکے فریب اور بے ایمانی سے توبہ

ماہ ِصیام میں بھی کچھ لوگ دھوکہ دہی، فراڈ اور بے ایمانی سے نہیں چوکتے ہیں۔ ایمانداری ،سچ اور خلوص کا تو جیسے جنازہ نکل گیا ہے۔ کل ہی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ شہر میں ایک یونٹ ہولڈر نے اس طرح اچار بنایا تھا کہ اگر لوگ اس کو کھاتے تو کوئی نہ کوئی بیماری ان کو ضرور اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اس سلسلے میں فوڈ سیفٹی محکمے کے ترجمان نے بتایا کہ ایک خصوصی اطلاع ملنے پر محکمے کی ٹیم نے چھاپہ مارکر اچار کے پندرہ کوینٹل بر آمد کرکے ضبط کرلئے۔ اس میں سے لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے کئی نمونے حاصل کئے گئے جبکہ باقی اچار ضائع کردیا گیا۔ ترجمان کے مطابق یہ اچار صرف ایک روز قبل ہی بڑے بڑے پلاسٹک کینوں میں رکھا گیا تھا جب ان کے ڈھکن کھولے گئے تو اس کی اوپر والی تہہ پر سفید سی پرت دکھائی دی جس کا یہ مطلب ہے کہ اچار جلدی تیار کرنے کیلئے اس میں ایک ایسا کمیکل ملایا گیا تھا جو انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے اور جس کے استعمال سے انسان معدے کی بیماری میں مبتلا ہو سکتا تھا اور یہ بیماری کبھی کبھار جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ محکمے نے اس معاملے پر یونٹ ہولڈر کیخلاف کیس رجسٹر کرلیا ہے۔ اس سے قبل مارکیٹ چکنگ کے دوران کئی ایسی اشیائے خوردنی ضبط کی گئیں جن کے بارے میں دعویٰ کیاگیا کہ یہ سب کی سب غیر معیاری اور ملاوٹی ہیں اور جن کے استعمال سے انسانی صحت بری طرح متاثر ہوسکتی ہے ۔ اتنا ہی نہیں اس بات کا بھی خلاصہ کیا گیا کہ کئی علاقوں میں ایسا گوشت بھی برآمد کرکے ضبط کیا گیا جو سڑا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ قصاب اس گوشت کو فروخت کرنے کیلئے دکانوں پر رکھتے ہیں جو کئی کئی دنوں تک بکا نہیں ہوتا ہے اور بعد میں اس گوشت کا رنگ بھی اتر گیا تھا اور اس سے بد بو آرہی تھی اور یہی گوشت قصاب خریداروں کو فروخت کررہے تھے لیکن اس گوشت کوبھی ضائع کردیا گیا۔ کیا ایسے دکانداروں پر چھا پہ مار کاروائیاں ضروری ہیں کیا وہ خود نہیں دیکھ سکتے کہ وہ لوگوں کو کیا فروخت کرتے ہیں۔ ان کا ضمیر کس طرح اس بات کی اجازت دیتاہے کہ وہ لوگوں کو گلا سڑا گوشت کھلاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح گلی سڑی سبزیاں فروخت کرنے والوں کو بھی اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ انہیں ماہ صیام میں لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی نہ کرتے ہوئے پاک وصاف اور تازہ سبزیاں فروخت کرنی چاہئے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ دودھ، بیکری، گوجہ پٹی اوربعض مخصوص قسم کے چپس اور دوسری اشیائے خوردنی میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ محض چند ٹکوں کیلئے دکاندار یا کارخانے والے اپنی عاقبت برباد کرتے ہیں۔ ماہ صیام ہم سب کو سدھرنے اور سچائی، ایمانداری کے راستے پر چلنے کا تو موقعہ فراہم کرتا ہے لیکن ہم اس سے دور رہ کر ماہ صیام میں ہی گناہوں کی دلدل میں دھنس کر اپنے لئے جہنم میں جگہ محفوظ رکھتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم سب چاہے دکاندار ہو ، ملازم یا ہو کاروباری یا مزدور وغیر بے ایمانی، جھوٹ، فریب اور جعلسازی سے توبہ کریں اور ایک پر سکوں زندگی گذاریں اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے اس سے مسلم معاشرہ بھی ترقیوں کی بلندیوں کو چھوے گا اور لوگوں کی صحت بھی برقرار رہ سکتی ہے بشرطیکہ ہم خود میں تبدیلیاں لاکر مکر و فریب سے توبہ کریں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں