وادی میں غیر یقینیت کا خاتمہ لازمی

رمضان المبارک کے پہلے بیس دن خونین ثابت ہوئے کیونکہ سرکاری طور پر یکطرفہ سیز فائیر کے اعلان کے باوجود ان بیس دنوں میں 36افراد مارے گئے جن میں عام شہری، جنگجو اور فورسز اہلکار شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اعدادو شمار کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ماہ صیام کے بیس دنوں کے دوران جو 36افراد مارے گئے ان میں دس عام شہری، دس فورسز اہلکار اور سولہ جنگجو نوجوان شامل بتائے گئے۔ اسی مدت کے دوران پندرہ گرینیڈ حملے کئے گئے جن میں سترہ فورسز اہلکاروں سمیت چالیس افراد زخمی ہوگئے جن میں سے اب بھی کئی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا بتائے جاتے ہیں ۔ ان اعداد و شمار سے اس بات کا بخوبی پتہ چلتا ہے کہ سئیز فائیر وغیر ہ کے باوجود مرنے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جو کسی بھی حال میں ایک مثبت رحجان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کیونکہ امن سے ہی سارے مسایل حل کئے جاسکتے ہیں۔ ان اعداد و شما ر سے پتہ چلتا ہے کہ سیز فائیر کے باوجود ہلاکتوں کا یہ حال ہے اور اگر سیز فائیر نہیں ہوتا تو کس قدر ہلاکتیں ہوتیں۔ غرض سیاستدانوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ یہاں کیا چاہتے ہیں۔ گذشتہ تیس برسوں سے وادی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے پورا نظام زندگی درہم برہم ہوچکاہے ۔ یہاں نہ کاروبار باقی رہا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا کا م ۔ اقتصادی طور پر لوگ انتہائی پریشان کن حالات سے گذرہے ہیں اور اوپر سے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کب کون اور کہاں مرے گا اور کس طرح مرے گا۔ ماہ رمضان سے قبل وزیر اعلیٰ نے مرکز سے وادی میں یکطرفہ جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور بی جے پی کے کئی لیڈروں کی سخت ترین ناراضگی کی پروا نہ کرتے ہوئے مرکز نے یہاں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن اس کے باوجود ہلاکتوں اور توڑ پھوڑ اور ماردھاڑ کے واقعات برا بر جاری ہیں۔ ان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے حالات میں کسی سدھار کی امید نہیں ۔ اگرچہ مرکز نے حریت رہنمائوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن اس کے بھی مثبت نتایج کی ابھی امید نظر نہیں آتی ہے۔ ہر طرف انتشاری کیفیت اور غیر یقینیت پائی جاتی ہے۔ کہیں سے بھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی ہے۔ اب کل وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ جو وادی کے دورے پر آگئے تھے نے انڈور سٹیڈیم میں نوجوانوں اور دوسرے کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ تباہی کا نہیں بلکہ ترقی کا راستہ اپنائیں۔ اس کے بعد انہوں نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ سیز فائیر میں توسیع کے امکانات کو مسترد نہیں کیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کشمیر پر سبھی متعلقین کے ساتھ بات چیت ہوسکتی ہے لیکن مذاکراتی عمل کیلئے ہم خیال نہیں بلکہ نیک خیال ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ اگر وہا ں دہشت پسندی کچھ زیادہ ہے تو اس پر قابو پانے کیلئے حکومت پاکستان کو بھارت سے مدد مانگنی چاہئے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس کے ساتھ ہی وادی میں امن و قانون کی صورتحال کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر داخلہ کے اس اعلان کے روشنی میں مزاحمتی قیادت کس طرح کے ردعمل کا اظہار کرے گی اور مستقبل اپنے دامن میں کشمیری عوام کیلئے کیا کچھ لاتا ہے۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ فریقین کو کشمیر کی صورتحال کا بھر پور انداز میں ادراک کرنا چاہئے لوگوں کی حالت کا بھی اندازہ لگا کر کوئی ایسا قدم اٹھانا چاہئے جس سے کشمیری عوام کو راحت مل سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں