ہسپتالوں میں نیم طبی عملے کی کمی

اس وقت جبکہ بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں اور ہسپتالوں پر مریضو ںکا رش گھٹنے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔ لیکن وادی کے تمام ہسپتالوں میں مناسب تعداد میں طبی عملے کی عدم موجود گی سے مریضوں کو زبردست مشکلات پیش آتی ہیں ۔ خاص طور پر اوپریشن کے بعد ایک مریض کو نیم طبی عملے کی ڈاکٹر سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن مناسب مقدار میں سٹاف کی عدم موجو دگی کبھی کبھارمریضوں کیلئے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ اس بارے میں ایک معروف سرجن نے انکشاف کیا کہ نیم طبی عملے کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ ایک ڈاکٹر مختصر مدت میں مریض کا اوپریشن کرتا ہے جس کے بعد اسے سیدھا ورارڈ میں بھیجا جاتا ہے اور جہاں اگر نیم طبی عملہ موجود نہیں ہوگا تو مریض کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے ۔ اس ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ نرس ہی ہے جو ایک مریض کیلئے مسیحائی کا رول ادا کرتی ہے ۔ ورنہ ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی اکثریت مناسب دیکھ ریکھ نہ ملنے سے زبر دست مسایل کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ لیکن افسوس ریاستی حکومت اس اہم نقطے کو سمجھ نہیں رہی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے سرکاری ذرا یع کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت نرسوں کی تعداد بہت کم ہے جس کے نتیجے میں مریضوں کو ناقابل تلافی تکلیف سہنا پڑتا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت وادی بھر میں ہسپتالوں کی تعداد 2102ہے لیکن ان میں نرسوں کی تعداد انتہائی کم ہے ۔ اگر چہ نرسوں کی اوسط 1.1ہونی چاہئے تھی لیکن یہاں اس وقت نرسوں کی شرح 1.60بتائی جاتی ہے جبکہ ونٹی لیٹروں پر جو مریض رکھے جاتے ہیں وہاں نرسوں کی شرح 1.10ہے جبکہ اس شعبے میں اس وقت نرسوں کی شرح 1.1ہونی چاہئے تھی ۔ اس وقت وادی کے تمام ہسپتالوں میں نرسوں کی تعداد چھ سو سے زیادہ نہیں جبکہ یہاں نرسوں کی تعداد ایک ہزار تک بڑھائی جانی چاہئے۔ اطلاعات کے مطابق جموں میں سابق ریاستی حکومت کے آخری ایام میں ایک سو نرسوں کے عہدے معرض وجود لائے گئے اور اس کے علاوہ وہاں 12میٹرنز کے بھی عہدے معرض وجود میں لاکر ان پر تقرریاں بھی عمل میں لائی گئیں ۔ اس ماہر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ایک نرس اپنے ہسپتال میں ہر چیز سلیقے سے رکھتی ہے اور مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی ہے ۔ اب صرف نرسوں کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ہسپتال میں چاہے نر س ہو یا ٹیکنشن یا کوئی اور کلاس فورتھ ملازم ہو سب اپنی اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں اسلئے ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پرنرسوں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اشتہاری مہم شروع کریں تاکہ مریضوں کی بہتر سے بہتر نگہداشت ہوسکے ۔ کیونکہ ہسپتالوں میں جس قدر ڈاکٹروں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے اسی طرح ہسپتالوں میں قابل اور دیانت دار نیم طبی عملے کی بھی حد سے زیادہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں