مذاکرات کی پیشکش ایک سنہری موقع :وزیراعلیٰ، کہاآپریشنز کی معطلی میں توسیع کا دارومدار زمینی صورتحال پر ہے  تاہم اُمید کرتی ہوں کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ معقول فیصلہ کریں گے

سرینگر/یو این آئی / جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی طرف سے کشمیری علیحدگی پسند قائدین کو دی گئی مذاکرات کی دعوت کو ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشکش بار بار نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم علیحدگی پسند قائدین کو زبردستی مذاکرات کی میز پر نہیں لائیں گے ، لیکن میں یہ امید کرتی ہوں کہ وہ ریاست کو مصیبت سے باہر نکالنے کے لئے وزیر داخلہ کی پیشکش سے فائدہ اٹھائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وادی میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشنز کی معطلی کی وجہ سے خون خرابے کا سلسلہ بند ہوگیا ہے اور لوگوں کو اطمینان سے سانس لینے کا موقع فراہم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشنز کی معطلی میں توسیع کا دارومدار وادی کی زمینی صورتحال پر ہے، تاہم میں امید کرتی ہوں کہ وزیر اعظم ﴿نریندر مودی﴾ اور وزیر داخلہ معقول فیصلہ کریں گے۔ محترمہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں مہجور نگر پل کا افتتاح کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’وزیر داخلہ نے پیشکش کی ہے کہ ہم سب کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے ۔ یہ ایک سنہری موقع ہے ۔ روز روز ایسا نہیں ہوتا ہے۔ ملک میں ایک طاقتور وزیر اعظم ﴿مودی﴾ اور پارٹی ﴿بی جے پی﴾ ہے‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر میں سبھی جماعتوں کا ماننا ہے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کہ ’کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے‘۔ انہوں نے کہا ’جب ہم کہتے ہیں کہ جموں وکشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے، اس کا کوئی ملٹری حل نہیں ہے تو ایسے میں تمام متعلقین بشمول علیحدگی پسندوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جموں وکشمیر میں ہم کیسے یہ خون خرابہ بند کرسکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’میں سمجھتی ہوں کہ جموں وکشمیر کو اس خون خرابے سے باہر نکالنے ، جموں وکشمیر میں ایک دیرپا امن قائم کرنے ، یہاں کے لوگوں کو ایک باعزت زندگی، بچوں کو اچھی تعلیم دینے ، جموں وکشمیر کے مسئلے اور مسائل کا ایک دیرپا حل نکالنے کے لئے سب کو آگے آنا چاہیے‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مذاکرات کی پیشکش بار بار نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا ’روز روز یہ باتیں نہیں ہوتی ہیں۔ ہم کسی سے زبردستی نہیں کرسکتے ہیں لیکن میں یہی امید کرسکتی ہوں کہ جموں وکشمیر کو اس مصیبت سے نکالنے کے لئے وہ ﴿علیحدگی پسند قائدین﴾ اس پیشکش سے فائدہ اٹھائیں گے‘۔ انہوں نے کہا ’ ﴿سابق وزیر اعظم﴾ واجپائی جی کے وقت میں بھی یہ اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ اُس وقت بھی آپریشنز کو معطل کیا گیا۔ 18 سال کے بعد پھر مودی جی کی حکومت میں ایسا ہوا ہے۔ اُس وقت نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی نے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ آج پھر وہی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں‘۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے گذشتہ ماہ نئی دہلی میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران کہا کہ مرکزی حکومت کشمیر کے تمام متعلقین بشمول علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ نے وادی میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشنز کی معطلی پر کہا ’جہاں تک لوگوں کا سوال ہے، میں سمجھتی ہوں کہ آپریشنز کی معطلی کے نتیجے میں انہیں اطمینان کا سانس لینا کا موقع ملا ہے۔ آئے روز کا خون خرابہ اور مار داڑ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ اس سے صورتحال پر ایک مثبت اثر پڑا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ آپریشنز کی معطلی میں توسیع کا دارومدار وادی کی زمینی صورتحال پر ہے۔ انہوں نے کہا ’وزیر داخلہ کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش بھی آئی ہے۔ اس کے ذریعہ امن عمل کو آگے بڑھانے کا ایک ماحول تیار کیا جارہا ہے۔ اس کو آگے کہاں تک لیا جاسکتا ہے، اس کا دارومدار زمینی صورتحال پر ہے۔ آپ خود دیکھتے ہیں کہ روز گرینیڈ حملے ہوتے ہیں۔ سیکورٹی فورسز اور پولیس پر حملے ہوتے ہیں۔ ہتھیار چھیننے کی وارداتیں پیش آتی ہیں۔ اس قسم کی حرکتوں سے ماحول پھر سے بگڑ جاتا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’مجھے پوری امید ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کوئی معقول فیصلہ کریں گے‘۔ مرکزی حکومت نے 16 مئی کو وادی میں ماہ رمضان کے دوران سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کو معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تشدد کا سلسلہ جاری رہنے سے وادی کی ترقی متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا ’جموں وکشمیر میں گذشتہ تیس برس سے بربادی کا سلسلہ جاری ہے۔ ہماری تعلیم کا نظام بگڑ رہا ہے۔ اس پل کو دو سال میں بننا تھا لیکن تین سال میں بنا۔ ہم بہت مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔ جو کام کرنے چاہیے وہ ہم ﴿خراب﴾ حالات کی وجہ سے نہیں کرپاتے ہیں‘۔ یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں