رہبری کے لبادے میں گھومتے رہزن کشمیری قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے :نیشنل کانفرنس

سرینگر// حکمران جماعت پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ رہبری کے لبادے میں گھومتے رہزن کشمیری قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، قوم قلم دوات جماعت کے خودساختہ لیڈران کے داغدار ماضی جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
سے پوری طرح پر واقف ہے اور اس بات سے بھی باخبر ہے کہ اس کشمیر دشمن جماعت نے اپنے آقائوں کی خوشنودی اور اقتدار کی خاطر کس قدر کشمیریوں کے جذبات اور احساسات کا سودا کیا اور جنت بے نظیر کو پھر ایک بار قتل گاہ بنا ڈالا۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر جنوبی کشمیر کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1990میں بھی کشمیر کو شورش زدہ علاقہ قرار دیکر پی ڈی پی کے بانی نے یہاں قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور 2015میں حکمرانی سنبھالنے کے ساتھ ہی قلم دوات جماعت نے پھر ایک بار یہاں خون کی ہولی کھیلنا شروع کردی۔ گذشتہ ساڑھے3سال سے ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب یہاں لاشیں نہیں گرتیں اور لوگ زخمی نہیں ہوتے۔علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی مذاکرات کیلئے وکالت کرتی آئی ہے لیکن یہ مذاکرات ٹھوس اور خلوص نیت پر مبنی ہونے چاہئے نہ کہ برائے نام۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیشنل کانفرنس ہی تھی جس نے 2000میں یہاں سیز فائر کی پہل کروائی اور ساتھ ہی حزب کمانڈروں اور نئی دلی کے درمیان مذاکرات شروع کروایئے۔ان مذاکرات کو کسی اور نے نہیں بلکہ مرحوم مفتی محمد سعید نے سبوتاژ کیا اور حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی ان پانچوں کمانڈروں کو ایک ایک کرکے ابدی نیند سلادیا گیا۔ ساگر نے کہا کہ یہ نیشنل کانفرنس کے نوجوان قائد عمر عبداللہ ہی تھے، جو یہاں کی اپوزیشن جماعتوں کو لیکر نئی دلی میں صدر، وزیر اعظم اور دیگر رہنمائوں سے ملے اور انہیں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی استدعا کی جبکہ اس وقت حکمران پی ڈی پی کشمیر میں جاری خون خرابے کی تماشائی بنی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر نے اگر کسی کو ہوشیار کیا تو اس میں کیا قباحت ہے۔ جموں و کشمیر کا بچہ بچہ اس با ت سے باخبر ہے کہ نئی دلی 1947سے لیکر آج تک کشمیریوں کے ساتھ وعدے کرتی آئی ہے لیکن کبھی ان وعدوں کو ایفا نہیں کیا۔ ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ مذاکرات کی وکالت کرتی آئی ہے اور مرکز سے وعدوں کو ایفائ کرنے پر بھی زور دیتی آئی ہے۔ اس کے برعکس پی ڈی پی کا رول ہر وقت منفی اور شاطرانہ رہا۔ جن سابق عمر عبداللہ حکومت میں افسپا کی منسوخی کیلئے رائے منظم ہونے لگی اُس وقت بھی پی ڈی پی والوں نے افسپا کی منسوخی کے عمل کو سبوتاژ کیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ پی ڈی پی والوں نے سرحد پار سے کشمیری نوجوانوں کی واپسی کی بھی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہ مٹنے والی حقیقت ہے کہ مرحوم مفتی محمد سعید نے 40سال کانگریس میں رہ کر کشمیر سے متعلق ہر ایک پیش رفت کو سبوتاژ کیا۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ پی ڈی پی اور حکومت کی طرف سے بیان جاری کرنے والے کبھی نوجوانوں کی مسلسل ہلاکتوں، پیلٹ گنوں کے بے تحاشہ استعمال، آبادیوں میں توڑ پھوڑ، ماردھارڈ ، ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے بارے میں بھی کبھی بیان شائع کیوں نہیں کرتے، اس وقت اُن کے منہ پر تالے کیوں چڑھ جاتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں