عسکری تنظیموں میں نئی بھرتی میں کمی :ڈی جی پی، سیز فائر کی بدولت کشمیر میں امن قائم ہوا :کورکمانڈر

سرینگر/ کے این ایس / یو این آئی /جنگجوئوں کی صفوں میں نو جوانوں کی بھرتی میں کمی کا دعوی ٰ کرتے ہو ئے ریاستی پولیس کے سر براہ نے بتایا کہ یک طرفہ جنگ بندی کے دوران صوتحال میں آئی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔اس دوران ڈی جی پی نے جنگ بندی کے با وجود جنگجوئوںکی جانب سے سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں پر تبصرہ کرتے ہو ئے بتایا کہ کچھ عناصر ریاست میں امن عمل کو سبو تاژ کر نے کے در پے ہیں ۔ مرکزی سرکار کی جانب سے ماہ صیام کے پیش نظر وادی میں یک طرفہ جنگ بندی کے نتیجے میں جنگجوئوں کی صفوں میں نوجوانوں کی بھرتی میں کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا کہ یک طرفہ جنگ بندی سے وادی میں جنگجوئوں کی صفوں میں نوجوانوں کی شمولیت میں نمایاں کمی واقع ہوہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کی جانب جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
سے ماہ صیام کے پیش نظر یک طرفہ جنگ بندی کے بعد وادی میں امن و قانون کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے جس دوران وادی کشمیر بالخصوص جنوبی کشمیر کے لوگوں نے راحت کی سانس لی ۔ کشمیر نیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے بتایا کہ ماہ صیام میں عام نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولت میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اس عرصے کے دوران وادی کشمیر بالعموم اور شمالی کشمیر کے لوگوں نے بالخصوص راحت کی سانس لی ہے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں ہم وادی کی سیکورٹی صورتحال کا بغور جائزہ لیں گے اوروادی میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائیں گے۔ پلوامہ میں ہوئے جنگجوئوں کی جانب سے حملے پر بولتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ اگر چہ مرکزی سرکار کی جانب سے وادی میں بحالی امن کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جارہے ہیںتاہم کچھ شرپسند عناصر وادی میں امن عمل کو پٹری سے اتارنے کے درپے ہیں جسے ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ادھر سری نگر میں قائم فوج کی 15 ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ﴿جی او سی﴾ لیفٹیننٹ جنرل انیل کمار بھٹ کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں ماہ رمضان کے دوران جنگجوؤں کے خلاف آپریشنز کی معطلی کی بدولت امن قائم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں شہری ہلاکتیں پیش نہ آنا فوج کے لئے خوشی کی بات ہے۔ لیفٹیننٹ بھٹ نے کہا کہ آپریشنز کی معطلی میں توسیع کا فیصلہ مرکزی سرکار لے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فوج مرکزی حکومت کی طرف سے لئے جانے والے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ انیل کمار بھٹ نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز یہاں ’کشمیر سپر 30 ﴿میڈیکل﴾ پروجیکٹ‘ کی لانچنگ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’حالانکہ یہ غلط جگہ ہے جہاں پر میں آپ سے دراندازی کے بارے میں بات کروں۔ میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ سیز فائر ہونے کے بعد ﴿وادی میں﴾ امن قائم ہوا ہے۔ عوام نے اس کا مثبت طریقے سے جواب دیا ہے۔ رمضان المبارک میں شہری نہیں ہوئی تو ہمیں اس کی خوشی ہے‘۔ لیفٹیننٹ بھٹ نے کہا کہ آپریشنز کی معطلی میں توسیع کا فیصلہ مرکزی سرکار لے گی۔ ان کا کہنا تھا ’سیز فائر میں توسیع کا فیصلہ حکومت لے گی۔ حکومت جو بھی فیصلہ لے گی، ہم اس پر عمل کریں گے‘۔ پندرہویں کور کے جی او سی نے کہا کہ پاکستان جنگجوؤں کی بھارتی حدود میں دراندازی کرانے میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’پاکستان جنگجوؤں کو بھارتی حدود میں دراندازی کرانے میں لگا ہوا ہے۔ لیکن ان کی بھارتی حدود میں دراندازی کو روکنے کے لئے بھارتی فوج ہر جگہ پر چوکنا ہے‘۔ لیفٹیننٹ بھٹ نے کہا کہ ہتھیار چھیننے کے واقعات سے جنگجوؤں کی مایوسی جھلک رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’اس سے تو ان کی مایوسی جھلک رہی ہے۔ پولیس اہلکاروں نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار چھیننے کی کئی وارداتوں کو ناکام بنایا۔ ریاستی پولیس ان واقعات کو روکنے کے لئے متحرک ہے‘۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 16 مئی کو وادی میں ماہ رمضان کے دوران سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کو معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا۔ آپریشنز کی معطلی جسے ’یکطرفہ فائر بندی کا نام بھی دیا جارہا ہے‘ کو وادی میں قیام امن کی سمت میں ایک غیرمعمولی قدم سمجھا جارہا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ وادی میں جنگجوؤں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے آپریشنز پر لگی روک میں توسیع کا فیصلہ سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے اور ریاستی نمائندوں سے بات چیت کے بعد ہی لیا جائے گا۔ انہوں نے 8 جون کو شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ آئندہ کچھ روز میں سیکورٹی کا جائزہ لینے کے لئے ایک اجلاس بلایا جائے گا جس میں ’آپریشنز کی معطلی‘ میں توسیع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ لے لیا جائے گا۔ یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں