کشمیر میں ’ریس تھری‘ کی شوٹنگ میں تعاون کیلئے ’محکمہ سیاحت‘ کا شکر گذار ہوں : سلمان خان

سری نگر، 12 جون ﴿یو ا ین آئی ﴾ بالی ووڈ اسٹار سلمان خان نے ’ریس تھری‘ کی وادی کشمیر میں شوٹنگ کے دوران جموں وکشمیر کے محکمہ سیاحت کی جانب سے فلم کے عملے کو فراہم کئے گئے تعاون کے لئے اس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ فلم 15 جون کو عیدالفطر کے موقع پر ریلیز ہونے جارہی ہے۔ وادی میں اس فلم کی عکس بندی وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں واقع مشور سیاحتی مقام سونہ مرگ میں کی گئی۔ سلمان خان نے سونہ مرگ میں فلم کی اداکارہ جیکولین فرنینڈز کے ساتھ لی گئی ایک تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’تمام تر سپورٹ اور شاندار تجربے کے لئے جموں وکشمیر ٹوریزم کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘۔ سلمان خان نے ٹویٹر پر سونہ مرگ کی جو تصویر اپ لوڈ کی ہے اس میں ایک ندی اور برف کی چٹانوں کا انتہائی خوبصورت منظر دیکھا جاسکتا ہے۔ بتادیں کہ سلمان خان ’ریس تھری‘ کے عملے کے ساتھ رواں برس اپریل میں کشمیر آئے تھے۔ وہ قریب ایک ہفتے تک سونہ مرگ میں خیمہ زن رہے جہاں ’ریس تھری‘ کی عکس بندی کی گئی۔ سلمان خان نے وادی میں قیام کے دوران فلم کے پروڈیوسررمیش تورانی اور باڈی گارڈ شیرا کے ہمراہ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات بھی کی تھی۔ فلم کے عملے نے وزیر اعلیٰ کے ساتھ ایک گھنٹے تک بات چیت کی تھی۔ رمیش تورانی نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’ ہم وزیر اعلیٰ میڈم کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ریس تھری کے آخری مرحلے کی شوٹنگ کے لئے کشمیر میں ہمارا خیرمقدم کیا‘۔ سلمان خان اس سے قبل سپر ہٹ ثابت ہونے والی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں سونہ مرگ آئے تھے۔ تب وہ قریب دو ہفتوں تک سونہ مرگ میں خیمہ زن تھے۔ انہوں نے جنوبی کشمیر میں ’بجرنگی بھائی جان‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک غریب بیوہ کے خاندان کو اپنا لیا تھا۔ بتادیں کہ وزیر اعلیٰ محترمہ مفتی نے گذشتہ برس کہا تھا کہ وہ سلمان خان کو کشمیر کا برانڈ امبیسڈر بنانا چاہتی ہیں۔ 15 جون کو عیدالفطر کے موقع پر ریلیز ہونے والی ’ریس تھری‘ میں سلمان خان کے ساتھ انیل کپور، بابی دیول، جیکولین فرنینڈز، ڈیسی شاہ اور ثاقت سلیم بھی نظر آئیں گے۔ کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں ایک بھی سنیما گھر موجود نہیں ہے۔ جن سنیما گھروں میں 1980 کی دہائی میں فلمیں دکھائی جاتی تھیں وہ اب یا تو سیکورٹی فورسز کی زیر تصرف ہیں یا ان کی عمارتیں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔ وہ بھی اس حقیقت کے باوجود کہ وادی کی برف سے ڈھکی پہاڑیاں، سرسبز و شاداب کھیت اور دلکش آبی ذخائر بالی ووڈ کو فلموں کی عکس بندی کے لئے یہاں کھینچ لاتے ہیں اور بیسویں صدی کی چھٹی سے لیکر آٹھویں دہائی تک بیشتر بالی ووڈ فلموں کی عکس بندی یہیں ہوئی ہیں۔
وادی کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے ’ وادی میں 1980 کی دہائی کے اواخر میں نامساعد حالات نے جنم میں لیا جس نے یہاں سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے‘۔ یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں