آتشیں گولہ باری کے واقعات میں 11بی ایس اہلکار ہلاک

سرینگر/ کے این این /مرکزی سرکار کے اعداد وشمار کے مطابق جموں وکشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں یکم جنوری سے اب تک11سرحدی حفاظتی فورس﴿ بی ایس ایف﴾ اہلکار ہلاک ہوئے جوکہ گزشتہ5برسوں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کافی زیادہ شرح ہے ۔ منگلوار اور بدھ کی درمیانی رات کو پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمانڈ نٹ سمیت 4اہلکار ہلاک ہوئے ۔یہ واقعہ جموں کے سانبہ ضلعے کے رام گڑھ سیکٹر میں پیش آیا ۔ یکم جنوری سے اب تک سرحدوں پر امسال پاکستانی فوج کی جانب سے 320مرتبہ بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور ماٹر شلنگ کی گئی ،جسکے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان سرحدی حفاظتی فورس ﴿بی ایس ایف﴾ کے11اہلکار ہلاک ہوئے جن میں کئی افسران بھی شامل ہیں جبکہ ان واقعات میں37دیگر اہلکار زخمی ہوئے ۔خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے اپنی رپورٹ میں اعداد وشمار ظاہر کئے ،جن کے مطابق اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ برس یعنی سنہ2017میں سرحدوں پر پاکستانی فوج کی جانب سے111مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کی گئیں جبکہ 2016میں جموں میں بین الاقوامی سطح پر204مرتبہ پاکستانی فوج نے فائرنگ اور ماٹر شلنگ کی ،2015میں یہ تعداد350تھی اور2014میں پاکستانی فوج نے127مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزیاں کی تھیں ۔سرکاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ 2016میں پیش آئے آتشی گولہ کے واقعات میں 2بی ایس ایف اہلکار ہلاک اور7اہلکار زخمی ہوئے تھے ۔سنہ2015میں ایسے واقعات میں ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک اور5اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ2014میں پاکستانی فوج کی فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے باعث بی ایس ایف کے2اہلکار ہلاک اور14زخمی ہوئے تھے ۔بدھ کو34سالہ اسسٹنٹ کمانڈ نٹ جتندر سنگھ ،32سالہ سب انسپکٹر راجیش کمار،28سالہ کانسٹیبل ہنس راج گجر اور 52سالہ اسسٹنٹ ایس آئی رام نواس شامل ہے ،پاکستانی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی رام نواس پاکستانی رینجروں کی گولی سے اپنی نگران گاہ میںنشانہ بنا جبکہ 3دیگر اہلکار ماٹر شل کی آہنی ریزوں کی زد میں آکر ہلاک ہوئے ۔بی ایس ایف ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ اور مارٹر شلنگ کے بیچ پاکستانی کی جانب سے ریسکیو ٹیموں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ،جسکے نتیجے میں ریسکیو ٹیموں میں شامل اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں