کشمیر میں اکثریت امن کی طرفدار:راج ناتھ سنگھ رمضان سیز فائر نے کشمیر کی تصویر ہی بدل کررکھ دی

نئی دہلی /جموںوکشمیر میں اکثریت کو امن کا طرفدار قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا رمضان سیز فائر پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے عمل ہورہا ہے جبکہ جنگجو امن کو موقعہ دینے کے حق میں نظر نہیں آتے / اس دوران انہوںنے کنٹرول لائن پر پاکستانی گولہ باری میں بی ایس ایف اہلکاروں کی ہلاکت کو بد قسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے کرتوت سے باز نہیں آرہا ہے لہذا اسے اسی کی زبان میں جواب /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 دیا جائیگا ۔ رمضان سیز فائر میںتوسیع کے حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ بہت جلد اس اس سلسلے میںمرکزی حکومت اپنا موقف واضح کریگی کیونکہ زمینی صورتحال کا جائزہ بغور لیا جارہا ہے ۔ نئی دلی میںآج ایک تقریب کے دوران مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں اکثریت امن کی طرفدار ہے اور سیز فائر کا عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا جارہا ہے کیونکہ اب وہاں لوگ روز مرہ کی زندگی گذارنے کو ہی ترجیح دے رہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ان کے حالیہ دورے کے دوران انہوںنے بدلا بدلا کشمیر پایا ہے ۔ کیونکہ وہاں اب لوگ اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں مگن ہیں ۔ تاہم اس سیز فائر میںتوسیع کیلئے بھی مسلسل بنیادوںپر فیڈ بیک آرہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ فوج کیساتھ مشاورت ہوگی اور بعد میں وزیراعظم نریندر مودی ہی اس کا حتمی فیصلہ لیں گے جس کیلئے ایک اہم میٹنگ منعقد ہوگی ۔انہوںنے کاکہا کہ حالیہ دنوں انہوںنے وزیراعظم نریندر مودی کیساتھ اس معاملے پر بات کی ہے لہذا تکنیکی امو ر کو دیکھتے ہوئے ابھی مزید مشاورت لازمی ہے ۔انہوںنے کشمیر میںحملوں کے حوالے سے کہاکہ معاملات کو نمٹانے کیلئے ہم ہر بات پر بحث کریں اور کشمیر کی قیادت مین اسٹریم جماعتوںکو بھی اعتماد میںلیا جائیگا ، راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر جب مشاروت مکمل ہوگی اور سیکورٹی نکتہ نگاہ سے سلامتی سے متعلق امور کی اہم میٹنگ بھی طلب کی جایگی جس میں وزرات داخلہ ، وزرات دفاع ، فوج کے تینوں کمانوں کے سربراہان اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران شامل ہونگے ۔انہوںنے کہاکہ عید سے قبل ہی یہ میٹنگ منعقد کی جائیگی جس کے بعد اس معاملے پر سیل حاصل بحث کی جائیگی اور عید کے موقعے پرہی اس معاملے پر حتمی فیصلہ یا اعلان کیا جاسکتا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ اصل میں ہم کشمیر میں امن عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں اور ایسے میں مذاکرات کی دعوت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انہوںنے مزید کہاکہ حریت لیڈران کیساتھ بھی مذاکرات کا اعلان کیا گیا ہے اور اب حریت لیڈران پر یہ منحصر ہے کہ کیا کیا جائے اور وہ کس حد تک مثبت رد عمل کا اظہار کریں ۔ انہوںنے کہاکہ امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ دنوں میں معاملات بہتر ہی ہونگے ۔ انہوںنے کہاکہ رمضان سیز فائر ابھی تک کامیاب ہی مانی جاسکتی ہے جس نے کشمیر کی تصویر ہی تبدیل کرکے رکھ دی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کشمیر کی اکثریت امن چاہتی ہے ۔ انہوںنے امن دشمن عناصر کیخلاف سخت کاروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ امن عمل کو ہر محاذ پر ناکام بنانے والوںکو اس کا خمیازہ ادا کرنا ہوگا ۔ اانہوںنے کہاکہ کشمیر میں تین ماہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں بلکہ کئی ایک محاذ پر حکومت ریاستی حکومت کیساتھ مل کر کام کررہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔انہوںنے مزید کہاکہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے سبھی سیکورٹی ایجنسیوں کیساتھ تال میل برقرار رکھا جارہا ہے تاہم انہوںنے زور دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر کی اکثریت امن کی طرفدار ہے لہذا انہیں کچھ ایک گروپوں اور لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے رہنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں