بھارت بدترین اقتصادی بحران میں مبتلا

 بھارت سے اس سال سات ہزار کروڑ کا کالا دھن ملک سے باہر گیا ہے لیکن حکمراں طبقہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے ۔ جب بھارت میں جی ایس ٹی نافذ کیا گیا اور نوٹ بندی کی گئی تو اس وقت مودی سرکار نے لوگوں کو اس بات کا یقین دلایاتھا کہ اب ان کے اچھے دن آئینگے اور ہر شہری کے بنک کھاتے میں پندرہ پندرہ لاکھ کی رقم جمع ہوجائے گی لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ لوگوں کے کھاتوں میں پندرہ پندرہ روپے بھی نہیں ہیں اور ملک کی پوری آبادی شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ صدر فوری طور اقتصادی ایمر جنسی کا اعلان کرتے اور خزانے سے متعلق تمام امور کا چارج خود سنبھالتے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے بلکہ اعلیٰ سیاسی حلقوں کے مطابق موجودہ مرکزی سرکار کالا دھن جمع کرنے والوں کی بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی کررہی ہے اور جو لوگ کالے دھن کو جمع کرنے میں ملوث ہیں ان کو سوئیس بنکوں میں کھاتے کھولنے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ بعض واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ میہول چوکسی، نیرو مودی اور وجے مالیہ کو کروڑوں روپے لے کر ملک سے فرار ہونے میں بھاجپا نے ہی مدد دی ہے اور آج یہ لوگ ملک کی بدتر اقتصادی حالت دیکھ کر مگر مچھ کی طرح آنسو بہارہے ہیں۔ کیونکہ بی جے پی کی گورنمنٹ ہی جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے پیدا شدہ صورتحال کیلئے ذمہ دار ہے۔ جب نوٹ بندی کی گئی تو مودی سرکار نے کہا کہ اس سے ملک میں موجود سارا کالا دھن باہر آجائے گا لیکن جب دیکھا گیا تو ریزرو بنک آف انڈیا کے سابق گورنر نے اس بات کا انکشاف کیا کہ لوگوں کے پاس جو روپیہ ہے وہ سب واپس آگیا جس سے پتہ چلا کہ کہیں بھی کالا دھن موجود نہیں تھا اس کا اتنا ہی کہنا تھا کہ اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔ اس وقت مرکزی سرکار کے منتری واویلا کررہے ہیں کہ وجے مالیہ، میہو ل چوکسی اور نیرو مودی کروڑوں اربوں کی رقم ساتھ لے کر فرار ہوگئے ہیں لیکن اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں بھاجپا کی پول یہ کہہ کر کھولدی کہ متذکرہ بالا تینوں کو بھاجپا نے ہی ملک سے باہر فرار ہونے میں مدد دی ہے۔ آج ملک زبردست اقتصادی بحران سے دوچار ہے ۔ بھاجپا کا جھوٹ سامنے آیا ہے جب اس نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نتیجے میں لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر ہوگی ۔ سوئیس بنکوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس سال بھارت سے سات ہزار کروڑ کی رقم ان بنکوں میں جمع کی گئی ہے جو خود میں ایک ریکارڈ ہے ۔ جبکہ دوسرے ملکوں سے جو رقم سوئیس بنکوں میں جمع کی گئی ہے وہ صرف چار سے پانچ فی صد تک ہے ۔ جبکہ صرف ایک ملک بھارت سے پچاس فی صد کالادھن سوئیس بنکوں میں جمع ہوگیا ہے۔ اس وقت کاروباری سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں۔ کساد بازاری اور بیکاری کے مہیب ساے ہر جانب منڈلارہے ہیں لوگ زبردست پریشان ہیں لیکن بھاجپا سرکار ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے لوگوں میں سرکار کی جانب ناراضگی بڑھتی جارہی ہے کیونکہ اس سرکار نے چنائو کے وقت جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں