کیا واقعی جہلم کی ڈرجنگ کی گئی تھی؟

وادی میں سیلاب کا خطرہ بظاہر ٹل گیا لیکن پھر بھی لوگ خوفزدہ ہیں اور یہ سب کچھ بلاوجہ نہیں کیونکہ لوگوں کے ذہنوں میں سال 2014کے قہر انگیز سیلاب کی یادیں ابھی تازہ ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ اس طرح کا آسمانی قہر پھر ان پر ٹوٹ پڑے۔ جب سال 2014میںقہر انگیز سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی تو مختلف حلقوں کی طرف سے یہ سوالات پوچھے جانے لگے کہ آخر اس کی کونسی وجوہات تھیں جن کی بنا پرسیلاب سے اس قدر تباہی مچ گئی۔ کافی غو ر وخوض کے بعد سب اس بات پر متفق ہوگئے کہ جہلم کی عرصہ دراز سے ڈرجنگ نہ کرنے اور فلڈ چینلوں پرغیر قانونی قبضہ اوران پرتعمیرات کی بھر مار کی وجہ سے سیلاب نے اتنی تباہی مچادی۔ اس وقت ریاستی حکومت نے اس بات کا اعلان کیا کہ اب نہ صرف جہلم کی ڈرجنگ کی جائے گی بلکہ فلڈ چینلوں پرناجائیز قبضہ بھی ہٹایا جائے گا۔ دن گذرتے گئے،مہینے بیت گئے اور سال چلے گئے گذشتہ دنوں ایک بار پھر سیلاب کی سی صورتحال پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں جہلم میں پھر وہی کیفیت پیدا ہوگئی اور فلڈ چینلوں پر ناجایز قبضے کی وجہ سے سیلاب کے پانی نے پھر سے تباہی مچادی۔ جو بھی اور جہاں بھی نشیبی علاقے تھے وہ پانی سے لبالب بھر گئے اور جہلم میں اس قدر پانی کی سطح بڑھ گئی کہ لوگ پھر سہم کررہ گئے اور اگر فوری طور بارش بند نہیں ہوتی تو اس وقت حالات سال 2014سے زیادہ بدتر ہوجاتے۔ صرف ایک دن کی بارش نے یہ حال کردیا اور اگر بارشیں دو تین دنوں تک جاری رہتیں تو کیا ہوتا یہ سوچ کر ہی کلیجہ کانپ اٹھتا ہے۔ لوگ پوچھنے لگے وہ ڈرجنگ کیا ہوئی جس پرکروڑوں کی رقم صرف کی گئی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اُس وقت ڈرجنگ کی گئی ہوتی تو آج جہلم کی حالت ایسی نہیں ہوتی جیسی آج دکھائی دے رہی ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرجنگ برائے نام کی گئی اور اُن دنوں جہلم میں کئی مقامات پر ایک دو جے سی بی دیکھے جارہے تھے۔ لیکن بقول ان کے اگر جہلم میںبھرپورانداز ڈرجنگ کی گئی ہوتی تو آج اس کی حالت ایسی نہیں ہوتی۔ اس وقت کہا گیا کہ کولکتہ کی ایک فرم کو ٹھیکہ دیا گیا تھا لیکن وہ فرم کہاں گئی اس فرم سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اس نے جہلم کی ڈرجنگ کے نا م پر جو رقومات حاصل کی ہیں اس بھاری رقم سے اس نے کیا کیا ہے۔ ایک دن کی معمولی بارش نے پوری وادی کے لوگوں کی نیندیں حرام کردیں اور لوگ اس بات سے باخبر تھے کہ جہلم کا پانی پھر تباہی لاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس دوران اس بات کا بھی خلاصہ ہوا کہ فلڈ چینلوں پر تیزی سے بستیاں قایم کی جارہی ہیں اور یہ سب کچھ ناجایز طور پر کیا جارہا ہے۔ ان کے خلاف کوئی بھی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ جہلم کے کنارے بھی بڑی بڑی عمارتیں معرض وجود میں آرہی ہیںاور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کی تعمیر کے سلسلے میں بڑے پیمانے پررشوت کا لین دین ہوا ہے لیکن موجودہ حکومت سنی ان سنی کررہی ہے۔ ایک شہری نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ فلڈ چینل پر مدرسہ بھی قایم کیا گیا ہے جبکہ کئی مقامات پر قبرستان بھی قایم کئے گئے ہیں۔ اسلئے گورنر انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ جہلم کی ڈرجنگ کرنے والی فرم کیخلاف کاروائی کرے۔ اس کے ساتھ ہی فلڈ چینلوں پر سے قبضہ ہٹایا جائے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں