فسانہ یا حقیقت

جب سے بی جے پی نے پی ڈی پی کی حمایت سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے تب سے حکومت سازی کے بارے میں افواہوں کا بازار گرم ہے ان افواہوں میں کتنی سچائی ہے اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے صرف اتنا ہی معلوم ہوا ہے جو سب کے سامنے عیاں ہے اس کے علاوہ سب کچھ قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔ ہر سیاسی پارٹی یعنی مین سٹریم سیاسی پارٹیوں میں حکومت سازی کے بارے میں انتشار کی سی کیفیت پائی جاتی ہے کیونکہ ایک لیڈر ایک بات کہتا ہے جبکہ دوسرے لیڈر کی زبان سے دوسری بات نکلتی ہے۔ بی جے پی کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر حکومت سازی کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایک مقامی روز نامے نے بی جے پی کے ایک لیڈر کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ پارٹی ستمبر یعنی امرناتھ یاترا کے بعد حکومت سازی کے بارے میں اپنے پتے کھولے گی۔ اس لیڈر نے ان افواہوں کی نہ تو تردید کی اور نہ تصدیق جن میں کہا جارہا ہے کہ بی جے پی کسی بھی صورت میں اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے خواہ اس کیلئے اسے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ ادھر پی ڈی پی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر نہیں آرہا ہے اگرچہ اس پارٹی کے سئینر رہنما اور سابق وزیر نعیم اختر نے کہا کہ پارٹی کے اندر کوئی بھی انتشار یا سیاسی بحران نہیں لیکن اسی پارٹی کے تین ممبر کھلم کھلا بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کو اس وقت اس پارٹی میں خامیاں نظر آرہی ہیں تو انہیں اس وقت ان خامیوں پر نظر کیوں نہیں پڑی جب پارٹی بر سر اقتدار تھی اس وقت ان کو پارٹی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ضرورت تھی بہر حال پارٹی کے سینئر لیڈر نعیم اختر نے اس بات کا واشگاف طور پر اعلان کیا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ فوری طور الیکشن کا بگل بجادیا جائے۔ اس دوران عمر عبداللہ نے بھی یہ کہہ کر اپنی پارٹی کا موقف واضح کردیا کہ یہ پارٹی حکومت سازی کے کسی بھی عمل میں شامل نہیں۔ انہوں نے پی ڈی پی پر سنگین مالی بد عنوانیوں کے الزامات عاید کئے اور کہا کہ ڈریجنگ کے نام پر جو چار سو کروڑ خرچ کرنے کی بات کہی گئی وہ چار سو کروڑ کہاں گئے۔ اسی طرح نیشنل کانفرنس نے کہا کہ مرکز کی طرف سے ریاستی حکومت کو دئے گئے اسی ہزار مالی پیکیج کا بھی کچھ اتہ پتہ نہیں چل رہا ہے۔ اب کانگریس کا جہاں تک تعلق ہے تو غلام نبی آزاد نے اس بات کو صاف کیا ہے کہ ریاست میں پی ڈی پی کی حکومت سازی میںکسی قسم کی حمایت کاکوئی امکان نہیں۔ لیکن اس کے باوجو د کانگریس کے کور گروپ کے اجلاس میں ریاست میں حکومت سازی کے اقدمات پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس کے بعد جب کانگریس جنرل سیکریٹری امبیکا سونی سے اخباری نمایندوں نے کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے سوالات پوچھے تو انہوںنے انکار بھی نہیں کیا بلکہ کہا ہے کہ ہر پہلو کا باریک بینی سے جائیزہ لیا جارہا ہے اور اس بارے میں مناسب موقعے پر اعلان کیا جائے گا۔ غرض ابھی تک کسی بھی پارٹی کی طرف سے دوٹوک انداز میں کچھ نہیں کہا جارہا ہے ویسے بھی سیاستداں آج ایک اور کل دوسری بات کہتے ہیں اسلئے ابھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے البتہ فوری طور پر اسمبلی توڑ کر نئے سرے سے اسمبلی انتخابات کے امکانات دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں