طوفانی آندھی سے تباہی اور سرکاری امداد

منگل 3جولائی سہ پہر کے قریب اس وقت پوری وادی میں کہرام مچ گیا جب اچانک تیز آندھی چلی جس کے ساتھ ہی طوفانی بارشیں اور ژالہ باری شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف شور وغل بلند ہوا کیونکہ بڑے بڑے درخت سوکھے پتوں کی طرح گرنے لگے اور مکانوں اور دکانوں کی چھتیں پتنگوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگیں۔ جن مقامات پر عارضی شیڈ بنائے گئے تھے وہ گرنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے پورا ماحول غم و اندوہ میں ڈوب گیا میوے کی فصل کو خاص طورپر زبردست نقصان پہنچا اور فروٹ گروورس اور زمینداروں کی سال بھر کی کمائی مٹی میں مل گئی۔ طوفانی بادوباراں سے جہاں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا وہیں جانی نقصان کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے احاطے میں بڑے بڑے درخت وہاں پارک کی گئیں گاڑیوں پر گرگئے جس سے درجنوں گاڑیاں چکنا چور ہوگئیں۔ اسی طرح شالیمار باغ میں کئی سو سالہ پرانا چنار جڑ سے اکھڑ کر گرگیا۔ آندھی اس قدر خوفناک اور تیز تھی کہ ڈل میں بہت سی کشتیاں ڈوب گئیں اور بہت سے ہائوس بوٹوں اور ڈونگوں کو نقصان پہنچا۔ جو کشتیاں ڈوب گئیں بتایا جاتا ہے کہ ان میں سوار بہت سے افراد کو بچایا گیا لیکن دو کا آخری اطلاعات ملنے تک اتہ پتہ نہیں چل سکا۔ ان کی تلاش کل بھی جاری رہی۔ اس دوران شہر کے علاوہ وسطی ضلع بڈگا م میں بھی کہرام مچ گیا۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے میں بیرو ہ شامل بتایا گیا جہاں اسی فی صد درخت گرگئے، مواصلاتی نظام درہم بر ہم ہوکر رہ گیا۔ طوفانی آندھی اور شدید ژالہ باری سے ایک تو کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور اس کے علاوہ مکانوں اور دکانوں کی چھتیں اڑگئیں اور بڑے بڑے درخت مکانوں پر گرگئے جس سے تباہی مچ گئی۔ کل ضلع کی ترقیاتی کمشنر نے بذات خود جائے واردات پر جاکر حالات کا جائیزہ لیا اور طوفانی باد و باراں سے ہوئے نقصان کا از خود جائیزہ لے کر محکمہ مال کے افسروں اور اہلکاروں کو فوری طور نقصان کی تفصیلات فراہم کرنے کے احکامات صادر کئے۔ جہاں تک آفات سماوی کا تعلق ہے تو اس سے بڑے پیمانے پر نقصان تو ہوا لیکن اب یہ گورنر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کی بھر پور مدد کی جائے تاکہ وہ پھر سے روز مرہ کی زندگی گذارنے کے قابل ہوسکیں۔ جہاں تک ترقیاتی کمشنر وں کا تعلق ہے وہ اپنی جانب سے عام لوگوں کو ہوئے نقصانات وغیرہ کی تفاصیل اعلیٰ حکام تک پہنچائینگے لیکن بعد میں یہ گورنر انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور متاثرین کی مالی امداد کے احکامات صادر فرمائیں۔ کیونکہ مکانوں اور دکانوں کے ساتھ ساتھ میوے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ فروٹ گروورس کا کہنا ہے کہ انہوں نے بنکوں سے قرضہ وغیرہ لے کر باغ لگوائے اور میوے وغیرہ کی دواپاشی اور درختوں کی دیکھ ریکھ پر لاکھو ں روپے خرچ کئے لیکن ان کو دوہرے نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ ایک تو میوہ زمین پر گرکر تباہ ہوگیا اور دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ درخت بھی ٹوٹ کریااکھڑ کرگرگئے اس طرح فروٹ گروورس اور دوسرے زمیندار دوہرے نقصان میں مبتلا ہوگئے۔ اسلئے انسانیت کے ناطے ان کی فوری طور مدد کرنے سے وہ کسی حد تک نقصان پر قابو پانے کے اہل تو بن سکتے ہیں۔ اسلئے اس کام میں کسی بھی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں