ڈاکٹر مخاصمت کی راہ پر کیوں؟

جو ڈاکٹر اپنے پیشے سے انصاف نہیں کرسکتا ہے یا اس کے تقدس اور وقار کو نہیںپہچان سکتاہے وہ کسی بھی صورت میں ڈاکٹر کہلوانے کا مستحق نہیں۔ کیونکہ ڈاکٹری کا پیشہ ہر لحاظ سے مقدس ہوتا ہے ڈاکٹرایک مایوس انسان کو زندگی دیتا ہے اور زندہ رہنے کا شعور بخشتا ہے لیکن آج وہی ڈاکٹر چند ٹکوں کیلئے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کا مرتکب ہورہا ہے ۔ مریض درد سے کراہ رہے ہیں لیکن ڈاکٹر ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ جو ڈاکٹر معمولی مراعات کیلئے اپنے پیشے کے تقدس کو نہیں پہچان سکتا ہے وہ کسی بھی حال میں ڈاکٹر کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر کا مطلب ہے مسیحا۔ دوسروں کے دکھ درد کو سمجھ کر ان کو دور کرنے والا لیکن آج یہی ڈاکٹر مریضوں کو تڑپتا ہوا دیکھ کر ان کو ہاتھ لگانے سے بھی کتراتا ہے۔ افسو س صد افسوس کشمیری لوگ اپنی سادگی متانت اور درد دل کیلئے پوری دنیا میں مشہور ہیں لیکن آج یہی کشمیری کس قدر سنگدل بن گیا ہے یقین ہی نہیں آتا ہے۔ ڈاکٹروں کا مطالبہ جائیز بھی ہوسکتا ہے اس میں کوئی دو راے نہیں لیکن ان کا پیشہ اس بات کی اجازت نہیں دیتاہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اور مریضوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ کر ہڑتال کریں۔ ان ہی دنوں بچہ ہسپتال میں اس وقت لوگوں نے ڈاکٹروں کے خلاف مظاہرے کئے جب ایک دو سال کی بچی جس کا نا م معصومہ بتایاگیا درد سے کراہ رہی تھی اسے الٹیاں آرہی تھیں اور اس کی ماں حیران وہ پریشان ہسپتال کے اس فرش کو صاف کررہی تھی جس پر بچی الٹیاں کررہی تھی اس کا باپ ڈاکٹر کی تلاش میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں پاگلوں کی طرح جارہاتھا تاکہ ڈاکٹر کو بلا سکے لیکن کوئی بھی ڈاکٹر وہاں موجود نہیں تھا ادھر اس معصوم بچی کی والدہ خون کے آنسو رورہی تھی اور بچی کو یہ کہہ کر جھوٹی تسلیاں دے رہی تھی کہ ڈاکٹر آنے والا ہے اس جیسے ایک نہیں کئی واقعات رونما ہوئے۔ لل دید ہسپتال میں بھی حاملہ خواتین بھی درد سے کراہتی ہیں لیکن ریذیڈنٹ ڈاکٹر ندارد ۔ غرض ڈاکٹروں نے پورے نظام کو ہائی جیک کرلیا ہے اور مریضوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔ لوگ بھی متعلقہ حکام سے بار بار اپیلیں کررہے ہیں کہ اگر ڈاکٹروں کے مطالبات حقا یق پر مبنی ہیں تو ان کو فوری طور تسلیم کیا جائے اور ڈاکٹروں کے ساتھ مفاہمت کی جائے اور اگر ڈاکٹروں کے مسایل و مطالبات جائیز نہیں تو ان کو صاف صاف لفظوں میں بتایا جانا چاہئے تاکہ مریضوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسری جانب عوامی مسایل و مشکلات کو مد نظر رکھ کر ڈاکٹروں کو از خود اس بات کا اندازہ لگانا چاہئے کہ ان کی ہڑتال سے لوگوں کو کس قدر مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اس مسلے کو مسئلہ کشمیر نہ بناتے ہوئے انتظامیہ کو بھی مخاصمت کے بجائے مفاہمت کرنی چاہئے اور ڈاکٹروں کو اعتماد میں لے کر ان کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ اس وقت جو انتشاری کیفیت پائی جاتی ہے اس پر قابو پایا جاسکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں