ریڈونی کا افسوسناک واقعہ

 ایک بار پھر معصوم شہریوں کا خون بہادیا گیا۔ جس پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ اس بار ہاوورہ ریڈونی کولگام میں چار نہتے شہریوں کو موت سے ہمکنار کردیا گیا۔ اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت رونما ئ ہوا جب فورسز کے دستے وہاں سے گذرہے تھے اور اس دوران بقول مقامی لوگ وہ بار بار راہ گیروں کو پکڑ کر نہ صرف ان کی جامہ تلاشی لے رہے تھے بلکہ ان کی مارپیٹ بھی کر رہے تھے۔ چنانچہ اس پر وہاں لوگ جمع ہوگئے اور فورسز کے اس طرز عمل کے خلاف نعرے بلند کرنے لگے ۔ مقامی لوگوں اورعین شاہدین کا کہنا ہے کہ نہ کوئی پتھرائو ہورہا تھا اور نہ ہی زیادہ لوگ جمع تھے لیکن فورسز نے آئو دیکھا نہ تائو لوگوں پر ڈنڈے برسائے گئے ان پربندوق کی بٹھوں سے حملہ کیاگیا۔ جس پر بہت سے لوگ لہو لہان ہوگئے اس دوران پتھرائو بھی ہوا چنانچہ فورسز نے اچانک اور غیر متوقع طور عام شہریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے اور چار زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تعجب تو اس بات کا ہے کہ ایک معصوم لڑکی جو سڑک کے کنارے پر کھڑی تھی کو بھی گولیوں کا نشانہ بناکر ابدی نیند سلادیا گیا۔ اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیا اور پورے علاقے میں صف ماتم بچھ گئی۔ جتنے بھی زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کردیا گیا ان میں سے بیشتر کی حالت ڈاکٹروں نے نازک قرار دی۔ لوگ اس واقعے پر سراپا احتجاج ہیں کیونکہ نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے سے قبل نہ تو وارننگ شاٹ فائیر کئے گئے اور نہ ہی لوگوں کو وارننگ دی گئی بلکہ اچانک اور غیر متوقع طور پر نہتے شہریوں پر گولیاں چلاکر چار عام شہریوں کے خون سے زمین لالہ زار کی گئی۔ جب بھی یونیفائیڈ کمانڈ کی میٹنگ منعقد ہوتی ہے تو ہمیشہ فورسز اور فوجی افسروں کی طرف سے عام لوگوں کو یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ احتجاجیوں کیخلاف کوئی بھی کاروائی کرنے کے دوران سٹنڈارڈآپریٹنگ پروسیجر کا خیال رکھا جائے گا اور کسی بھی صورت میں بلاوجہ طاقت کا استعمال نہیں کیاجائے گا لیکن جب ہم ہاوورہ ریڈ ونی میں پیش آئے ہوئے واقعات کے بارے میں عینی مشاہدین کے حوالے سے سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ فورسز نے اپنی اس کاروائی کے دوران ایس او پی کا کوئی خیال نہیں رکھا اور بلاجواز گولیاں چلائیں۔ افسپا کے ہوتے ہوئے فوج یا فورسز کو اگرچہ حد سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں لیکن نہتے اورعام شہریوں کیخلاف طاقت کے استعمال پر ان سے باز پرس تو ہونی چاہئے۔ احتسابی عمل کو ان پر لاگو کرنا چاہئے۔ فورسز یا فوج اس وقت جواب طلبی یا احتساب سے مثتثنیٰ ہیں جب ان کا سامنا بندوق برداروں سے ہو لیکن جہاں عام لوگوں کا سوال ہے تو وہاں فورسز کو طاقت کے بے جااستعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے اور جب فورسز نے ایسا کیا ہو اور عام شہریوں کو ابدی نیند سلادیا گیا ہو تو ان حالات میں قتل کا مقدمہ درج ہونا ہی چاہئے۔ ریڈونی جیسے ہزاروں واقعات یہاں رونما ہوئے ہیں لیکن اگر آج کے واقعے کے پر گورنر انتظامیہ کی طرف سے فورسز کیخلاف احتسابی عمل شروع کیا جائے گا تو لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں ان کی آواز بھی کوئی سننے والا ہے اور ان کے ساتھ بھی انصاف کیا جارہا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں