گورنر کی یقین دہانیاں

جنوبی کشمیر کے ریڈونی کولگام علاقے میں تین عام شہریوں کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد راج بھون میں گورنر نے سیکورٹی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جس میں انہوں نے خاص طورپرناردرن کمانڈر اور دوسرے پولیس، فوجی اور نیم فوجی دستوں کے افسروں سے ریڈونی کے واقعے کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔ اس ایمر جنسی میٹنگ میں وادی میں امن و قانون کی کلی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور فوج، فورسز اور پولیس افسروں پر یہ بات واضح کردی گئی کہ سخت حالات میں بھی عام شہریوں کو تحفظ فراہم کیاجائے تاکہ ہلاکتوں کا سلسلہ ختم ہوسکے۔ معلوم ہوا ہے کہ گورنر نے ریڈ ونی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور اپنی ناراضگی جتائی۔ ریڈ ونی کے واقعے سے قبل بھی اس طرح کے واقعات یہاں رونما ہوئے جب فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کو موت کی ابدی نیند سلادیا گیا۔ اس وقت بھی سابق وزرائے اعلیٰ یونیفائیڈ کمانڈ کی میٹنگ بلا کر فوجی، نیم فوجی دستوں کے افسروں اور پولیس افسروں پر زور دیتے تھے کہ امن و قانون کی برقراری کے دوران طاقت کا کم سے کم استعمال کیاجائے تاکہ شہری ہلاکتوں سے بچا جاسکے۔ لیکن ان میٹنگوں کے بعد پھر سے شہری ہلاکتیں ہوتی رہیں اور پھر سے فوجی افسروںکی میٹنگیں بلائی جاتی رہیں اور اسی طرح کے بیانات جاری کئے جاتے ہے کہ فوجی افسروں وغیرہ پر زور دیا گیا کہ وہ طاقت کا کم سے کم استعمال کریں کبھی ایس او پی کی باتیں کی جاتی تھیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ نہ تو کبھی طاقت کا کم سے کم استعمال کیا گیا اور نہ ہی فورسز نے امن و قانون کی بر قراری کے دوران ایس او پی پر عمل کیا۔ اس وقت جبکہ ریاست میں کوئی سیاسی پارٹی بر سر اقتدار نہیں ہے اور ریاست میں گورنر راج قایم ہے لوگوں کو اس بات کی امید ہے کہ عوام کے جان و مال کو ہر ممکن طریقے پر تحفظ فراہم کیاجائے گا اور ریڈ ونی میں پیش آئے ہوئے واقعے کو کبھی بھی دہرانے کی نو بت نہیں آئے گی۔ عام لوگوں نے ریڈونی کے واقعے کے بارے میں کیا کہا اس بارے میں بھی گورنر کو آگا ہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے پس منظر کو بھی سمجھا جاسکے اور یہ بات معلوم پڑسکے کہ کن وجوہات کی بنا پر فورسز نے گولیاں چلائیں جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی پتھراو نہیں ہورہاتھا اور لوگ صرف کریک ڈاون کی دوران توڑ پھوڑ کے خلاف احتجاج کررہے تھے لوگوں کا کہنا ہے کہ فورسز نے اس وقت طاقت کا استعمال کرکے عام لوگوں کو نشانہ بنا یا۔ اس واقعے سے پوری وادی میں رہنے والے لوگوں میں غم وغصہ پیدا ہوگیا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ اس کی تحقیقات کی جائے۔ اب یہ گورنر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کی کس طرح مدد کی جائے۔ کیونکہ ان کی سب سے عزیز شے یعنی ان کی اولادیں گولیوں کا نشانہ بن کر اب اس دنیا میں نہیں رہے اس سے بڑھ کر اور کون سا غم ہوسکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں