کھیلوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں حکومتی دعوئے زمینی سطح پر میل نہیں کھا رہے ہیں  گورنر انتظامیہ رقومات کی تحقیقات کریں /کھلاڑی

سرینگر/ جے کے این ایس/ کشمیر وادی میں کھیلوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں صرف بیانات داغے جار ہے ہیں اور عملی اقدامات اٹھانے کے ضمن میں ابھی تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جسکی وجہ سے90فیصد علاقوںکے نوجوان اپنی صلاحیتوںکا بھر پور مظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں اور ان کے امیدیں خاک میں مل جاتی ہیںجبکہ شہر سرینگر اور دوسرے قصبوںمیں یوتھ سپورٹس محکمہ کی جانب سے تعمیر کئے گئے کھیل کے میدان ویرانی کا وہ منظر پیش کر رہے ہیں جس کی کوئی مثال نہیں مل پا رہی ہے۔ ریاست خاص کر وادی کشمیر میں 90فیصد علاقوںمیں کھیل کے شوقین کھلاڑیوںکو نہ تو میدان دستیاب ہیں اور نہ ہی انہیں ضرورت کا سامان فراہم کرنے کیلئے سرکار یا یوتھ سپورٹس محکمہ کی جانب سے کسی قسم کی جانکاری یا تربیت دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ ریاست خاص کر وادی کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ و طالبات کی جسمانی نشونما کو فروغ دینے کے سلسلے میں کھیل نہیں کھلائے جاتے ہیں بلکہ یوتھ سپورٹس محکمہ کو سرکار کی جانب سے جو رقومات فراہم کی جاتی ہیں ان کی کھلے عام بندر بانٹ کی جاتی ہے اور دکھاوئے کیلئے گلمرگ میں سنو ہاکی اور سکنگ کے ٹورنامنٹ منعقد کئے جاتے ہیں جہاں صرف سرمایہ داروں اور اثر رسوخ رکھنے والے لوگوں کے بچوںکو بلایا جاتا ہے ۔ کشمیر وادی میں گالف کورس کے میدان تعمیر کرنے کیلئے کروڑوں کا سرمایہ خرچ کیا گیا ہے بادشاہوں کے اس کھیل کو کھیلنے کیلئے وادی کے نوجوانوں کو گالف کورسوں تک رسائی حاصل نہیں اور یہ کھیل کھیلنے سے وہ نہ صرف قاصر ہیں بلکہ گالف ان کیلئے ایک خواب ہے جو کھبی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ یوتھ سپورٹس محکمہ کی جانب سے شہر سرینگر اور دوسرے قصبوںمیں جو سٹیڈیم یا کھیل کے میدان تعمیر کئے گئے ہیں وہ ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں اور ان کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی ہیں۔وادی کشمیر کی سڑکوں ، کھیتوںمیں ہر دن سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان مختلف کھیل کھیلا کرتے ہیں اور وادی کے نوجوانوں کو نہ تو کھیل کے میدان دستیاب ہیں اور نہ ہی کھیلوںکو فروغ دینے کے سلسلے میں وہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جس کی ضرورت ہے صرف دعوئے اور وعدئوں کی بنیاد پر کاغذی میزائل چلائے جاتے ہیں جن کا زمینی حقیقت کے ساتھ دور کا بھی واسط نہیں ہوتا ہے۔ یوتھ سپورٹس محکمہ کی جانب سے شہر سرینگر کے کئی کھیل میدانوں کو دور جدید کے خطو ط پراستوار کرنے کے سلسلے میں منصوبوں کو ہاتھ میں لیا گیا ہے اور ان کھیل کے میدانوں کو کب مکمل کیا جائے گا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔ قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر نے دس برس پہلے وادی کے کھیل کے شوقین کھلاڑیوں کو امید جگائی تھی کہ بی سی سی آئی کی جانب سے ریاست میں کھیلوں کوفروغ دینے کیلئے ایک سو کروڑ روپیہ فراہم کئے جائینگے تاکہ یہاں کے کرکٹ کھیل کے شوقین اس کھیل کو کھیل سکیں تاہم قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر کا بیان کھبی بھی صحیح ثابت نہیں ہوا بڑی مشکل سے وادی سے تعلق رکھنے والے منظور پانڈو نامی ایک کھلاڑی کو ملک کی کرکٹ ٹیم میں شامل تو کیا گیا لیکن اسے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا کھبی بھی موقع فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں زنگ آلودہ ہو رہی ہے جبکہ وادی میں ایسے ہیرے موجود ہیں جو اپنی صلاحیتوں کا اگر مظاہرہ کر سکیں تو دنیا میں اپنا نام روشن کر سکیں گے لیکن ایسے ہیروں کو تراشنے کی ضرورت ہے جس کیلئے سرکار اور یوتھ سپورٹس محکمہ تیار دکھائی نہیں دیتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں