18سالہ طالب علم عبید منظور 17روزبعدزندگی کی جنگ ہارگیا تجہیزوتکفین کے دوران رقعت آمیزمناظر

بارہمولہ/ عابد نبی/ عازم جان/ کے این این / بارہمولہ کے مضافاتی گائوں نادی ہل رفیع آبادکا پُرفضائ ماحول میں منگل کی صبح اُسوقت غم واندوہ کی نذرہوگیاجب نوعمرطالب علم عبیدمنظورلون کی میت کوصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سے آبائی گھرپہنچایاگیا۔ /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
25جون کوبی ایس ایف کے اہلکاروں نے بارہمولہ ،ہندوارہ شاہراہ پرنادی ہل کے نزدیک سنگباری کررہے نوجوانوں کے گروپ پرگولی چلائی تھی ،اورگولی لگنے سے 11ویں جماعت میں زیرتعلیم عبیدمنظورزخمی ہواتھا ،اور 17روزبعدیہ معصوم طالب علم زندگی کی جنگ ہارگیا۔عبیدمنظورلون کی میت کوآبائی گھرکے صحن میں رکھاگیاتویہاں کہرام مچ گیا،بڑی تعدادمیں مردوزن یہاں جمع ہوئے ۔پورے علاقہ میں تعزیتی ہڑتال کی گئی جبکہ بیشترگھرخالی تھے کیونکہ سبھی معصوم عبیدمنظورکی تجہیزوتکفین کیلئے غمزدہ منظوراحمدلون کے صحن میں جمع ہوئے ۔معصوم عبیدکی ماں اوربہن سمیت سبھی خواتین کی دردناک چیخ وپکاراورواویلاسے اسقدرماحول غمناک بن گیاکہ ہرشخص کی آنکھ اشکبارہوئی ۔اس دوران نادی ہل بارہمولہ میں اسوقت کہرام مچ گیاجب ماں ،بہن اوردیگررشتہ داروں نے مہلوک طالب علم کی میت پرگلباری کی ،اوراُسکے گلے میں ایسے پھولوں اورروپیوں کے ہارڈالدئیے،جیسے عبیدکی شادی ہواوروہ بارات کیساتھ روانہ ہونے ہی والاہو۔خواتین کے اس موقعہ پرشادی کے گیت بھی گائے ۔سسکیوں اورآہوں کے چلتے یہاں جمع لوگوں نے آزادی ،برہان وانی اورجنگجوئوں کے حق میں فلک شگاف نعرے بلندکئے ۔اس دوران نزدیکی کئی دیہات سے ہزاروں کی تعدادمیں لوگ یہاں پہنچے۔18سالہ عبیدمنظورکی میت پرسبزپرچم ڈالاگیا،اورجلوس جنازہ کی صورت میں اس معصوم کی میت کونزدیکی کھلے میدان میں پہنچایاگیا۔جلوس جنازہ میں شامل مردوزن نے راستے میں فورسزوبھارت کیخلاف اورآزادی ،جنگجوئوں اوربرہانی وانی کے حق میں نعرے بلندکئے۔ کھلے میدان میں عبیدمنظورکی نمازجنازہ اداکی گئی جبکہ اس موقعہ پراس معصوم طالب علم کے والد،بھائی، قریبی رشتہ دار،ہم جماعتی اوردوست واحباب کے علاوہ دیگرسینکڑوں لوگوں بھی موجودتھے ۔نمازجنازہ کیلئے لوگوں نے صفیں باندھیں تونزدیک ہی جمع خواتین نے آہ وزاری کرنے کیساتھ ساتھ نعرے بھی بلندکئے ۔نمازجنازہ مکمل ہونے کے بعدعبیدمنظورکی میت کوایک بڑے جلوس کی صورت میں مقامی مزارشہدائ پہنچایاگیاجہاں آہوں وسسکیوں اورنعرے بازی کے بیچ اورسینکڑوں اشکبارآنکھوں کے سامنے معصوم طالب علم کی میت سپردلحدکی گئی ۔تجہیزوتکفین کے بعدبھی نادی ہل میں نوجوان اورخواتین عبیدکی بلاجوازہلاکت کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے۔اُدھرممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظربارہمولہ ،ہندوارہ شاہراہ رناد ی ہل اوردیگرنزدیکی دیہات کے نزدیک پولیس اورفورسزکے دستے تعینات کئے گئے تھے ۔اس دوران منگل کی صبح اس شاہراہ پرگاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثررہی ۔اُدھرپرنسپل گورنمنٹ ہائراسکنڈری اسکول بارہمولہ نے اسکول میں زیرتعلیم عبیدمنظورکے جاں بحق ہوجانے کے بعداسکو ل میں پورے دن کیلئے درس وتدریس کاعمل معطل رکھنے کافیصلہ لیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں