فوج اور فورسز خود کو حاصل خصوصی اختیارات کے بل پر کشمیریوں کو مظالم و تشدد کا نشانہ بنارہی ہے: حریت ’ع‘

سرینگر/ حریت کانفرنس ’ع‘نے وادی کے مختلف علاقوںمیں بھارتی فورسز کی بربریت اور جارحیت کے نتیجے میں دونہتے نوجوانوں عبید منظور سکونت نادی ہل رفیع آباد،تمثیل احمد خان ساکن ہیل شوپیاں جبکہ ایک عسکری معرکے کے دوران دو عسکریت پسندوں کو شہید کئے جانے اور 50 کے قریب افرادکو شدید زخمی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصوبہ بند پروگرام کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوج اور فورسز خود کو حاصل غیر معمولی اختیارات کے بل پر کشمیریوں کو اپنا حق، حق خودارادیت طلب کرنے کی پاداش میں مظالم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے ۔بیان میں کہا گیاکہ پورے کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول برپا کیا گیا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک عسکریت پسند کا والد محمد اسحاق نائیکو ساکن کنڈلن شوپیاں اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کرجاں بحق ہو گیا جو حد درجہ تشویشناک اور ایک المیہ ہے۔بیان میں جنوبی کشمیر میں عوام کیخلاف فوج کی جانب سے بلا اعلان جنگ چھیڑ دیئے جانے کو ایک خطرناک صورتحال سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر میں عملاً فوج کی حکمرانی ہے اور یہ لوگ کسی جواب دہی کے عمل سے بالاترہوکر نہتے عوام کوپشت بہ دیوار کرنے کے کسی بھی جارحانہ عمل سے گریز نہیں کررہے ہیں۔بیان میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں شہید کئے گئے متذکرہ افراد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک جائز جدوجہد میں مصروف عوام کو آئے روز ایک نہ دوسرے بہانے مختلف نوعیت کے تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے اور ان کی زندگی کا ناطقہ تنگ کردیا گیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں