یاتریوں کیلئے کشمیری نوجوانوں کا جذبہ ایثار

امرناتھ یاتر ا شروع ہوچکی ہے اور روزانہ ہزاروں یاتری یہاں آکر یا تو بال تل یا پہلگام کے راستے سے امرناتھ جاکر گپھا کے درشن کرتے ہیں۔ ان یاتریوں کی حفاظت کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے ہیں اور ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو لاکھ یاتریوں کیلئے ایک لاکھ فورسز اہلکار تعینات کئے گئے ہیں تاکہ یاتریوں پر کسی قسم کا حملہ نہ ہو حالانکہ گذشتہ دنوں معروف عسکری کمانڈروں نے اس بات کو واضح کیا کہ یاتری ان کے نشانے پر نہیں کیونکہ یاتری عام شہری ہیں جن پر جنگجو حملہ نہیں کرینگے لیکن اس کے باوجود سرکاری سطح پر یاتریوں کی حفاظت کیلئے بھر پور انتظامات کئے گئے ہیں۔ یاترا کے دوران کئی یاتری قدرتی موت مرگئے جبکہ کل ہی ایک حادثے میں مزید دو یاتری از جان ہوئے۔ اس سلسلے میں جو اطلاعات موصول ہوئیں ان کے مطابق قاضی گنڈ ٹول پوسٹ کے قریب ایک یاتری گاڑی اچانک ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر لڑھک گئی اور اس میں سوار تقریباً سب کے سب یاتری زخمی ہوگئے جوں ہی یہ واقعہ رونما ئ ہوا مقامی لوگ جن میں نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد شامل تھی فوری طور جائے واردات پر پہنچ گئے گاڑی میں پھنسے یاتریوں کو با ہر نکال نکال کر ہسپتال پہنچادیا اور اس دوران یہ کوشش کی گئی کہ زخمی یاتریوں کو فوری طور ہسپتال پہنچادیا جائے تاکہ ان کی جانیں بچائی جاسکیں۔ عینی مشاہدین کا کہنا ہے کہ گائوں والے اپنی گاڑیاں لے کر آئے اور زخمیوں کو ان میں بھر بھر ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بھی ان کو طبی امداد فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی نتیجے کے طور پر بیشتر زخمیوں کی جانیں بچائی گئیں۔ اس دوران وہاں درجنوں مسلم نوجوانوں نے ہسپتال میں زخمی یاتریوں کیلئے اپنے خون کی پیش کش کی۔ کشمیری مسلمان نوجوانوں کے اس جذبے کو دیکھ کر یاتری زار و قطار رونے لگے اور انہوں نے کہا کہ بیشتر پرائیویٹ چنلیں کشمیریوں کی کس قدر غلط تصاویر پیش کرتی ہیں اور اس وقت اگر یہی کشمیری ان کی مدد نہیں کرتے تو بہت سے یاتری لقمہ اجل بن جاتے البتہ گاڑی میں سوار دویاتریوں کو نہیں بچایا جاسکا جو شدید زخمی ہوگئے تھے اور زیادہ خون بہنے کی وجہ سے ان کی زندگیاں نہیں بچائی جاسکیں حالانکہ کشمیری مسلم نوجوانوں نے ان کیلئے اپنا خون بھی پیش کیا۔ مقامی لوگوں نے یاتریوں کیلئے نئے کپڑوں کا انتظام کیا اور ان کو دودھ اور پانی پلایا اس کے بعد ان کیلئے چائے وغیرہ کا انتظام کیاگیا۔ یہ کشمیری لوگ ہیں جن کے بارے میں بھارت بھر میں غلط اور بے بنیاد پروپاگنڈا کیا جارہا ہے اس واقع سے ان لوگوں کی آنکھیں کھلنی چاہئے جو کشمیریوں کیخلاف نفرت کے بیج بوتے ہیں اس واقعے کے بارے میں کسی بھی ٹی وی چینل نے کوئی تبصرہ نہیں کیا جو لوگ ٹی وی پر کشمیریوں کیخلاف دن رات زہر اگلتے رہتے ہیں ان کیلئے یہ واقعہ ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ان کو اپنی آنکھوں سے نفرت، عداوت اور تعصب کی عینک اتار کر کشمیریوں کو اسی نظر سے دیکھنا چاہئے جیسے کہ وہ ہیں۔ قاضی گنڈ میں پیش آئے ہوئے واقعے کے دوران مقامی نوجوانوں نے اس بات کا ثبوت دیا کہ کشمیری کوئی دہشت گرد نہیں نہ وہ ذات پات یا فرقہ پرستی میں یقین رکھتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل لسجن کے قریب بھی ایک فوجی گاڑی کو حادثہ پیش آیا وہاںبھی کشمیری نوجوانوں نے زخمی فوجیوںکو ہسپتال پہنچادیا اور اتنا ہی نہیں جن کیلئے خون کی ضرورت تھی ان کیلئے خون بھی دیا گیا۔ کشمیریوں کے اس جذبے، ہمت، حوصلے اور دور اندیشی کی دنیا کے کسی بھی کونے میں مثال ملنی مشکل ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں