نواز شریف کیخلاف احتساب عدالت کو دو ریفرنسز کی تکمیل کیلئے مزید چھ ہفتے کی مہلت

اسلام آباد/ پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے لیے احتساب عدالت کو مزید چھ ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔ عدالت نے یہ مہلت احتساب عدالت کے جج جسٹس محمد بشیر کی جانب سے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط کی بنیاد پر دی ہے۔اس خط میں استدعا کی گئی تھی کہ ان دونوں ریفرینسز کی سماعت مکمل نہیں ہو سکی ہے اور ابھی مزید گواہیاں باقی ہیں۔ لہٰذا انہیں مزید وقت فراہم کیا جائے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ان کا پہلے دن سے یہی موقف رہا ہے کہ اگر تینوں ریفرنسز کی سماعت اکٹھی ہو جاتی اور ایک ساتھ ہی فیصلہ آتا تو یہ معاملات سامنے نہ آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جج صاحبان لندن فلیٹس کے بارے میں فیصلہ دے چکے ہیں لہٰذا اب انہیں دیگر دو ریفرنسوں کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہ معاملہ متعلقہ فورم پر اٹھانا چاہیے تاہم انھوں نے خواجہ حارث کی یہ استدا مسترد کر دی۔ عدالت نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ مقدمات کی سماعت کے دوران جو شفافیت ہوئی کیا وہ ان سے مطمئن ہیں؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ جتنی بھی شفافیت ہے وہ اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔خیال رہے کہ جمعے کو ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس برس قید بامشقت،ان کی بیٹی مریم نواز کو سات برس قید جبکہ داماد کیپٹن ﴿ر﴾ صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی جبکہ نواز شریف کو 80لاکھ جبکہ مریم نواز کو 20لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں