خورشید احمد گنائی نے حج انتظامات کا جائزہ لیا ڈویژنل کمشنر نے ہوائی اڈے اور حج ہاوس کا دورہ کیا

سرینگر/ یو این آئی /نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی گورنر نریندر ناتھ ووہرا سے اپیل کی ہے کہ وہ وادی کشمیر بالخصوص جنوبی کشمیر میں مسلح تصادم کے مقامات پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لئے نئے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر ﴿ایس او پی﴾ وضع کریں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو امید تھی کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد حالات میں بہتری آئے گی لیکن ایسا /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
کچھ نہیں ہوا۔ عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں اپنی دادی بیگم اکبر جہاں کی 18 ویں برسی کے سلسلے میں نسیم باغ ﴿حضرت بل﴾ میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’لوگوں کو امید تھی کہ گورنر راج نافذ ہونے کے بعد حالات میں آہستہ آہستہ بہتری آنا شروع ہوگی۔ لیکن ابھی تک ہمیں وہ بہتری نظر نہیں آئی۔ وادی بالخصوص جنوبی کشمیر میں مسلح تصادموں کے دوران عام شہریوں کو مارا جارہا ہے۔ اس پر جب تک روک نہیں لگائی جاتی ہے تب تک یہ امید کرنا کہ حالات میں بہتری آئے گی ، وہ نہیں ہوگا۔ ہم نے گورنر صاحب سے گذارش کی ہے کہ انہیں اس طرح کا ایس او پی تیار کرنا ہوگاجس کی بدولت مسلح تصادموں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کو ٹالا جاسکے‘۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ وادی کی زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے اور مسلح تصادم کے مقامات پر عام شہریوں کا جاں بحق ہونا اب معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا ’وادی کی زمینی صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ ہر روز یا تو جنگجوؤں کے حملے ہوتے ہیں یا عام شہری مارے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ میں 28 نوجوان جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ میں نے جموں میں سنا کہ کشتواڑ میں آٹھ نوجوان لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اگر کشتواڑ میں ملی ٹینسی دوبارہ شروع ہوگئی تو یہ پیش رفت ریاست کے لئے بہت ہی خطرناگ ثابت ہوگی‘۔ یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں