شہری بلدیاتی اداروں کے لئے انتخابات کا عمل شروع کرنے کی ہدایات ریاستی انتظامی کونسل کا اہم فیصلہ، لوگوں کی طبی نگہداشت کیلئے بڑے منصوبے کا اعلان

سرینگر/ریاستی انتظامی کونسل جس کی میٹنگ کل یہاں گورنر این این ووہرا کی صدارت میں منعقد ہوئی،نے ریاست میں شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات منعقد کرانے کا عمل شروع کیا ہے۔ایس اے سی نے مکانات و شہری ترقی محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ میونسپل اداروں﴿ میونسپل کارپوریشنوں/ میونسپل کونسلوں/ میونسپل کمیٹیوں﴾ کے انتخابات منعقد کرانے کا عمل چیف الیکٹورل افسر جموں وکشمیر کی مشاورت کے بعد شروع کرے۔ایس اے سی نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میونسپل ایکٹ،2000 کے سیکشن282 ﴿۱﴾ اور جموں وکشمیر میونسپل کارپوریشن ایکٹ2000 کے سیکشن9 ﴿۱﴾ کے تحت چیف الیکٹورل افسر جموں وکشمیر پر انتخابی عمل کے مختلف امور کی ذمہ داری عائد ہے۔کونسل نے مکانات و شہری/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 ترقی محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ چیف الیکٹورل افسر کی مشاورت کے بعد انتخابات کے لازمی اقدامات کی شروعات کریں جن میں چناؤ فہرستوں کی تیاری اور اپڈیشن شامل ہے تا کہ ریاست میں تمام میونسپل اداروں کے انتخابات عمل میں لائے جاسکیں۔ادھرمیٹنگ میں ریاست میں آیوشمان بھارت پردھان منتری راشٹریہ سوستھیا سرکھشا مشن ﴿ پی ایم آر ایس ا یس ایم ﴾ کو عملانے کو منظوری دی گئی۔اس فلیگ شپ سکیم کا مقصد 1350 مختلف بیماریوں میں علاج کے لئے پانچ لاکھ روپے فی کنبہ تک کا ہیلتھ کوریج فراہم کرنا ہے ۔اس میں رقم کا لین دین نہیں ہوگا تاہم مستحقین کو سمارٹ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے یہ معاونت فراہم کی جائے گی۔یہ طبی سکیم پبلک اور پرائیویٹ طبی اداروں کے ذریعے عملائی جائے گی۔ ریاست جموں وکشمیر میں 613648 کنبوں کے 36لاکھ افراد اس سکیم سے مستفید ہوں گے ۔یہ نفوس کل آبادی کا 29فیصد حصہ ہے۔سکیم کی موثر عمل آوری کے لئے ایک سٹیٹ ہیلتھ ایجنسی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو چیف سیکرٹری کی سربراہی میںکام کرے گی۔اسی طرح ایک ایگزیکٹیو کمیٹی کی تشکیل دی گئی ہے تاکہ اس مشن کو موثر طور عملایا جاسکے ۔ایگزیکٹیو کمیٹی چیف ایگزیکٹیو افسر کی سربراہی میں کام کرے گی۔سکیم کے ساتھ تمام سرکار ہسپتالوں کو جوڑا جائے گاجبکہ پرائیویٹ ہسپتالوں کو اس کے لئے درخواست دینا پڑے گی۔ ہر پرائیویٹ اور پبلک ہسپتال میں آیوشمان متر اہوں گے جو اس سکیم کی عمل آوری کے لئے مستحقین کے ساتھ رابطے میں رہیں گے ۔پی ایم آر ایس ایس ایم کی خصوصی بات یہ ہے کہ یہ کیش لیس او رپیپر لیس سکیم ہوگی اور سکیم کی عمل آوری کے لئے کنبوں کے افراد کی تعداد کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔مشن کی عمل آوری کا مقصد نقدی اخراجات کو کم کرنا ہے جس سے مستحق کنبوں کے رہن سہن میں مثبت تبدیلی آے گی۔ ریاستی انتظامی کونسل نے ریاست میں کارخانہ داروں کو عمومی طور پر اور نوجوانوں کو بالخصوص فوائد پہنچانے کے ایک اہم فیصلے کے طور پر جموں وکشمیر میں درج تمام انتہائی چھوٹے اورچھوٹے کارخانہ داروں کے ساتھ ساتھ سٹارٹ اپس کے لئے ٹرن اؤر اور تجربے سے مستثنیٰ رکھنے کو منظوری دی ہے ۔ سرکاری محکموں اوراداروں کی طرف سے20 فیصد خریداری کو ترجیحی دینا بھی شامل ہے۔اس فیصلے کابنیادی مقصد یہ ہے کہ ریاست کے سٹارٹ اپس اور ایم ایس ای سیکٹر کے لئے ایک ساز گار ماحول قائم کیا جاسکے تا کہ وہ ریاست کے تمام سرکاری محکموں اور ایجنسیوں کے ٹینڈرنگ عمل میں شرکت کرسکیں اور انہیں ٹرن اؤر اور تجربے کی اہلیت کے دائرے سے باہر رکھا جاسکے۔اس فیصلے سے ریاست کے ہُنر مندوں اور اُبھر تے ہوئے کارخانہ داروں کے لئے روز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقعے پیدا ہوں گے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں