شہری ہلاکتوںکیخلاف ہڑتال کے دوران فوج نے ترہگام کپوارہ میں ایک اور شہری کو ابدی نیند سلادیا علاقے میں کہرام ،پتھرائو ہوااور نہ مظاہرے راہ گیروں پر اندھادھند گولیاں چلائی گئیں،لوگوں کے الزامات ہڑتال کے دوران وادی بھر میں روزمرہ کی زندگی مفلوج ، صورہ میں آتشزنی

سرینگر/ عابد نبی /طارق راتھر / محسن کشمیری /رحیم رضوان /نیازحسین / عارف وانی / عازم جان /کے این ایس/ جے کے این ایس /ترہگام کپوارہ میں سیکورٹی فورسز نے راہ گیروںپر راست فائرنگ کی جس ے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں 20سالہ نوجوان کی اسپتال میں موت واقع ہوئی ۔ علاقے میں خبر پھیلتے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرئے کرنے لگے۔ مقامی لوگوں کے مطابق فورسز اہلکاروں نے راہ چلتے نوجوانوں پر بندوقوں کے دہانے کھولے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ شام دیر گئے ترہگام کپواڑہ میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب فورسز نے لوگوں پر راست فائرنگ /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
کی جس کے نتیجے میں تین افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے پیشے سے دکاندار 20سالہ خالد غفار ولد عبدالغفار ملک کو مردہ قرار دیا۔ نمائندے کے مطابق کپواڑہ ، ترہگام اور ہندواڑہ میں نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی مرد و زن نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور ترہگام کی طرف پیش قدمی شروع کی ۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر آمنا سامنا ہوا جس دوران سیکورٹی فورسز نے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق ترہگام کے نزدیک نوجوان معمول کے مطابق اپنے کام میں مصروف تھے کہ اس دوران فوجی گاڑیوں میں سوار اہلکاروں نے بندوقوں کے دہانے کھولے جس کے نتیجے میں دو نوجوان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک کی موت واقع ہوئی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ترہگام کپواڑہ میں شام دیر گئے پتھراو کا کوئی واقع پیش نہیں آیا اور فوج نے بغیر کسی اشتعال کے نوجوانوں پر فائرنگ کی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق نوجوان کی موت کن حالت میں ہوئی اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہزاروں کی تعداد میں ترہگام اور اُس کے ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے نوجوان کی نعش کو کاندھوں پر اُٹھا کر آبائی گائوں کی طرف پیش قدمی شروع کی جس دوران لوگ اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک ترہگام کپواڑہ میں حالات کشیدہ اور پُر تنائو تھے۔ اس ضمن میں جب دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا کے ساتھ رابط قائم کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تفصیلات حاصل کی جار ہی ہے۔ ترجمان کے مطابق وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اس بارے میں کچھ کہہ سکیں۔ ، ادھر مشتر کہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے شہری ہلاکتوں ،مزاحمتی لیڈران و کا ر کنان کی خانہ و تھانہ نظر بندی اور جنوبی کشمیر کو یر غمال بنا نے کے خلاف دی گئی احتجاجی ہڑ تال کال کے نتیجے میں بدھوار کو وادی بھر میں مکمل ہڑ تال رہی جس کے دوران تمام کاروباری ادارے ،دکانات ،تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے ،جبکہ اس دوران قاضی گنڈ سے لے کر کپوارہ تک ٹریفک کی نقل و حمل متاثر رہی ۔اس دوران ریل حکام نے سیکورٹی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہو ئے بانہال بارہمولہ ریل سروس خد مات معطل رکی تھی ۔ادھر جنوبی کشمیر کے دو اضلاع کولگام اور شو پیاں میں انٹر نیٹ سروس ہنوز معطل ہے ،جبکہ اسلام آباد اور پلوامہ اضلاع میں کم رفتار والی انٹر نیٹ سروس بحال کر دی گئی ۔ ادھر انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو بر قرار رکھنے کے لئے شہر سرینگر سمیت وادی بھر کے کئی علاقوں جن میں پلوامہ ،کولگام ،شو پیاں ،ترال ،اونتی پورہ ،حاجن ،بانڈی پورہ ،سو پور ،بارہمولہ ،لنگیٹ ،ہندوارہ ،کرالہ گنڈ ،وتر گام،نادی ہل سمیت دیگر کئی علاقوں میں کسی بھی نا خو شگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی کے اضافی انتطامات عمل میں لائے گئے تھے ۔ادھر انتظامیہ نے مزاحمتی لیڈران جن میں سید علی شاہ گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،ےٰسین ملک سمیت دیگر کئی لیڈران و کار کنان کو تھانہ و خانہ نظر بند رکھا تھا ۔ادھر ہڑتال کے با وجود روایتی راستوں بالتل اور ننون سے امر ناتھ یاترا بغیر کسی خلل کے جاری رہی ۔اس دوران پولیس نے دن بھر کی صورتحال کو اظمنا بخش قرار دیتے ہو ئے بتایا کہ وادی کے تمام اضلاع میں حالات پُر امن رہے اور اس دوران کسی بھی جگہ سے کو ئی نا خو شگوار واقعہ رو نمائ نہیں ہوا ۔اس دوران سوپور بانڈی پورہ شاہراہ پر سنگ بازی کے ایک واقعہ میں ایک خاتون فریدہ بیگم زوجہ عتیق اللہ ساکن نائید کھئے پتھر لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوئی جسے شدید زخمی حالت میں صورہ منتقل کیا گیا۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے وادی میں فورسز کی جانب سے مسلسل شہری ہلاکتوں، مزاحمتی لیڈران وکارکنان کی خانہ و تھانہ نظر بندی اور وادی کو بالعموم اور جنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیان، اسلام آباد اور کولگام اضلاع کو بالخصوص یرغمال بنانے کے خلاف دی گئی احتجاجی کال کے نیتجے میں وادی کے شمال و جنوب میںمکمل ہڑتال رہی جس دوران عوامی، کاروباری، تجارتی اور تعلیمی سرگرمیاں مفلوج رہیں۔شہر سرینگر میں ہڑتالی کال کے پیش نظر تمام دوکانات، کاروباری ادارے، تجارتی مراکز اور سرکار ی و غیر سرکاری دفاتر میں بند رہے ۔ اطلاعات کے مطابق ہڑتالی کال کے نتیجے میں سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری آٹے میں نمک کے برابر ہی جس دوران کئی دفاتر میں الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ معلوم ہوا ہے کہ بائی پاس اور سیول لائنز علاقوںمیںگاڑیوں کی جزوی نقل و حمل دیکھنے کو ملی جبکہ کئی مقامات پر چھاپڑی فروش اور ریڈی والے سڑکوں پر نظر آئے۔ اس دوران انتظامیہ نے شہر خاص اور دیگر کئی حساس مقامات پر کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے سیکورٹی کے کڑے انتظامات عمل میں لائے تھے۔ ادھر ہڑتال کے نتیجے میں قاضی گنڈ سے لے کر سرحدی ضلع کپوارہ تک سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل کہی جزوی تو کہیں مکمل طور پر ٹھپ رہی جس دوران لوگوں کو آواجاہی میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قصبہ پلوامہ نے نمائندے نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی لیڈران کی جانب سے دی گئی ہڑتال کے نتیجے میں جنوبی کشمیر کے قصبہ پلوامہ میں زندگی کی جملہ سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قصبہ پلوامہ میں ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر رہے جس دوران قصبہ میں تمام طرح کی تجارتی ، کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے ہڑتال کے پیش نظر کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے پلوامہ کے حساس مقامات مورن چوک، ٹہب، نیوہ، شہید پارک سمیت بس اسٹینڈ پلوامہ میں سیکورٹی کے سخت بندوبست کئے تھے تاہم اس دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ادھر شوپیان میں بھی ہڑتال کی وجہ سے مکمل طور پر سکوت چھایا رہا جس دوران تجارتی مراکز اور تعلیمی اداروں میں الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ نمائندے نے بتایا کہ منگلوار کو کندلن میں فوج کی جانب سے شہریوں کی ہلاکت کو لے کر عوام میں سخت غم و غصہ پایا گیا جس دوران مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کا اثر ضلع بھر میں دیکھنے کو ملا۔ اسی دوران کولگام اور اسلام آباد میں بھی شہری ہلاکتوں کو لے کر مکمل ہڑتال رہی جس دوران عام زندگی بری طرح سے متاثر رہی۔ نمائندے کے مطابق کولگام اور اسلام آباد کے مضافات میں ہڑتال کال کا خاصا اثر رہا جس دوران انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع بھر کے حساس مقامات پر سیکورٹی اہلکاروں کو چوکس رہنے کی ہدایات دی تھیں۔ اس دوران شمالی کشمیر کے کپوارہ،بارہمولہ، بانڈی پورہ ، حاجن، سوپور، لنگیٹ ، نادی ہل سمیت کئی علاقوں میں ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ کے این ایس کے مطابق شمالی کشمیر کے نادی ہل علاقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عبید منظور لون جس نے منگلوار کی صبح صورہ ہسپتال میں زندگی کی آخری ہچکی لی کی یاد میں اور کندلن شوپیان میں شہری ہلاکت کو لے کر سخت ہڑتال رہی جس دوران ادھر بھی عام زندگی متاثر رہی۔ نمائندے کے مطابق شمالی کشمیر کے حساس مقامات جن میں حاجن، بانڈی پورہ، اجس، سوپور، نادی ہل، رفیع آباد، ترہگام، لنگیٹ، اولڈ ٹائون بارہمولہ، پلہالن، شامل ہیں میں سیکورٹی کے کڑے بندوبست عمل میں لائے گئے تھے جس دوران سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل پر اثر دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے مختلف تعلیمی اداروں اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں کام کاج مفلوج رہا جس دوران ان اداروں میں طلبا اور ملازمین کی حاضری آٹے میں نمک کے برابر رہی جبکہ سڑکوں سے گاڑیوں کی آواجاہی متاثر رہنے کے نتیجے میں لوگوں کے عبور و مرور میں دقتیں پیش آئیں۔اس دوران سوپور بانڈی پورہ شاہراہ پر سنگ بازی کے ایک واقعہ میں ایک خاتون فریدہ بیگم زوجہ عتیق اللہ ساکن نائید کھئے پتھر لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوئی جسے شدید زخمی حالت میں صورہ منتقل کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق سوپور بانڈی پورہ سڑک پر رحیم صاحب کے مقام پر ایک نجی گاڑی JK05G-0415پر نامعلوم افراد نے سنگ بازی کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ایک خاتون فریدہ بیگم زوجہ عتیق اللہ شدید زخمی ہوئی۔ذرائع نے بتایا کہ زخمی خاتون کو ابتدائی مرحم پٹی کے لیے سب ضلع ہسپتال سوپور پہنچایا گیا جہاں سے اسے نازک حالت میں صورہ سرینگر منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔ اس دوران احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل حکام نے بدھوار کو کو بارہمولہ بانہال ریل خدمات اگلے احکامات تک معطل رکھی جس کے نتیجے میں ریل سے سفر کرنے والے مسافروں کو سخت دقتوں کا سامنا درپیش رہا۔ ادھر جنوبی کشمیر کے دو اضلاع کولگام اور شو پیاں میں انٹر نیٹ سروس ہنوز معطل ہے ،۔
جبکہ اسلام آباد اور پلوامہ اضلاع میں کم رفتار والی انٹر نیٹ سروس بحال کر دی گئی ۔اطلاعات کے مطابق وادی میں ہڑتال کے بیچ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور افواہ بازی پر لگام کسنے کے لیے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے شوپیان اورکولگام میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو ہنوز معطل رکھا جبکہ ضلع انت ناگ اور پلوامہ میں حالات میں قدرے بہتری آنے کے بعد انتظامیہ نے بدھوار صبح کو موبائل انٹرنیٹ سروس کی کم رفتار والی سروس بحال کردی۔۔ادھر انتظامیہ نے مزاحمتی لیڈران جن میں سید علی شاہ گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،ےٰسین ملک سمیت دیگر کئی لیڈران و کار کنان کو تھانہ و خانہ نظر بند رکھا تھا ۔ادھر ہڑتال کے با وجود روایتی راستوں بالتل اور ننون سے امر ناتھ یاترا بغیر کسی خلل کے جاری رہی ۔ اطلاعات کے مطابق ہڑتالی کال کے باجوود بھی روایتی راستوں بال تل اور ننون سے امر ناتھ یاترا جاری رہی جس دوران ہزاروں یاتری بدھوار کو بھی جموں سے وادی وارد ہوئے۔ اس دوران پولیس نے دن بھر کی صورتحال کو اظمنا بخش قرار دیتے ہو ئے بتایا کہ وادی کے تمام اضلاع میں حالات پُر امن رہے اور اس دوران کسی بھی جگہ سے کو ئی نا خو شگوار واقعہ رو نمائ نہیں ہوا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں