جواہرٹنل کا متبادل کام میں تیزی لائی جائے

کشمیر وادی کو بیرون دنیا سے ملانے کا واحد راستہ جواہر ٹنل سے ہوکر گذرتا ہے۔ اس کی عمر صرف پچاس سال مقرر کی گئی تھی لیکن ا سوقت اس کی عمر 70سال کی ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود اس سے اب بھی وہی کام لیاجارہا ہے جو اس کی تعمیر کے وقت لیا جاتا رہالیکن اس وقت اس ٹنل پر حد سے زیادہ بوجھ پڑا ہے کیونکہ ا س پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد ساٹھ کی دہائی میں چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں ڈیڑھ سو گنا بڑھ گئی ہے۔ گویا ہر گذرتے دن اس پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ لیکن دوسری جانب اس کی عمر ڈھلتی جارہی ہے اور اب یہ زیادہ بوجھ سہنے کے قابل نہیں رہی۔ اس دوران کل ہی اس کے شمالی ٹیوب کے اندرونی حصے میں اچانک شگاف پڑگیا اور کئی چٹانیں گرنے لگیں۔ لیکن اس دوران کوئی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ بیکن حکام نے فوری طور اس کی اطلاع ملتے ہی اسے آمد ورفت کیلئے بند کردیا اور اب اس کی مرمت کا کام شروع کردیا گیا لیکن اس سے قبل ماہرین ارضیات اور جیولو جسٹ طلب کئے گئے جو اس جگہ کا بھر پور انداز میں معاینہ کررہے ہیں جہاں یہ واقعہ رونما ہوا اور جہاں اچانک چٹانیں کھسکنے لگی ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ اگر اس وقت گاڑیاں چل رہی ہوتیں تو جانی اور مالی نقصان بھی ہوسکتا تھا۔ ادھر ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اگر جواہر ٹنل کے ایک ٹیوب میں شگاف پڑنے لگے ہیں اور چٹانیں کھسکنے کا عمل شروع ہوا ہے تو یہ انجینئرنگ کا کوئی نقص قرار نہیں دیاجاسکتا ہے بلکہ یہ سب کچھ ٹنل کی عمر کی وجہ سے ہورہا ہے۔ ان ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ جب یہ ٹنل بن کر تیار ہوگئی تو اس وقت کے ماہرین نے سرکاری طور پر اس بات کا اعلان کیاتھا کہ یہ ٹنل صرف پچاس سال تک ہی چل سکتی ہے اس کے بعد اس کی پائیداری کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے اور اب اس کی عمر ستر برس کے قریب ہونے لگی ہے اور اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ اس وقت ٹنل پر حد سے زیادہ بوجھ ہے ۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹنل پر اسی رفتار سے گاڑیاں چلنے کا عمل جاری رکھنے دیا جائے گا جس رفتار سے اس وقت گاڑیاں چلتی ہیں تو یہ عنقریب ناقابل استعمال بن جائے گی ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ شمالی ٹیوب کی لمبائی 2547میٹر ہے اور تقریبا 1500میٹر اور 1600میٹر کے درمیانی حصے کے قریب اچانک شگاف پڑ گیا اور چٹانیں گرنے لگی ہیں اب اس کی مرمت کا کام اگرچہ شروع کردیا گیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عارضی پیوند کاری سے کیا ہوگا اس کا متبادل تلاش کرنا ضروری ہے اگرچہ بارہمولہ سے بانہال تک ریل گاڑی اب چلائی جارہی ہے لیکن جب تک سرینگر اور جموں کے درمیان براہ راست ریل سروس شروع نہیں کی جائے گی تب تک ا س ٹنل پر دبائو برابر برقرار رہے گا اسلئے ٹنل کی مرمت کے ساتھ ساتھ متبادل ٹنل پر کام میں تیزی لائی جائے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں