شہدائ کے مشن کو پایہ تکمیل تک لے جانا قیادت اور عوام کی ذمہ داری:حریت ’ع‘ میمندر میں ایک بچے کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے پر اظہار رنج وغم کیا

سرینگر/حریت کانفرنس’ع‘ نے حریت چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی ایک دن کی رہائی کے بعد ریاستی انتظامیہ کی جانب سے ایک بار پھر انہیں اپنی رہائش گاہ میرواعظ منزل نگین میں نظر بند کرکے انکی جملہ پر امن دینی و سیاسی سرگرمیوں پر پہرے بٹھانے کی کارروائیوں کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کی بوکھلاہٹ قرار دیکر اسکی پر زور مذمت کی ہے ،بیان میں کہا گیا کہ رواں سال کے دوران اب تک 60 سے زیادہ نہتے ، معصوم اور بے گناہ شہریوںکو سرکاری فورسز نے اپنی پُر تشدد کارروائیوں اور راست فائرنگ کے نتیجے میںشہادت کے مقام تک پہنچا دیا ہے جب کہ اس دوران سینکڑوں افراد کو شدید طور پر بلٹ اور پیلٹ سے زخمی کردیا گیااور بدقسمتی سے یہ افسوسناک سلسلہ برابر جاری ہے ۔جملہ شہدائے جموںوکشمیر کو انکی بے لوث اور عظیم قربانیوں کیلئے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ شہدائ کے مشن کو پایہ تکمیل تک لیجانا قیادت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہم سب اس کے لئے عہد بند ہیں،بیان میں میمندر شوپیاں میں کھیل رہے کمسن بچے12 سالہ سالک خورشید جو ایک بارودی مواد کے پھٹنے کے سبب جاں بحق ہونے اور دیگر3 ساتھیوں کے زخمی ہونے پر دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر کے مختلف علاقوں اور میدانوں میں فورسز کی جانب سے بارودی مواد کی موجودگی کے سبب اس سے قبل بھی وادی کے متعدد علاقوں میں اس طرح کے المناک واقعات کے نتیجے میں قیمتی جانوںکا نقصان ہوا ہے اور یہ سب کچھ دیرینہ مسئلہ کشمیر کا شاخسانہ ہے لہٰذا جب تک اس مسئلہ کو انسانی اور سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تب تک قیمتی انسانی جانوںکا زیاں ہوتا رہیگا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں