پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں خودکش دھماکہ، صوبائی امیدوار سمیت 20 ہلاک

سرینگر/ مانٹرنگ/ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی ﴿اے این پی ﴾ کی انتخابی میٹنگ کے دوران خود کش دھماکے میں صوبائی امیدوار ہارون بلور سمیت 20افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اے این پی نے اس واقعے پر تین دن تک سوگ منانے اور سیاسی سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔حملے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے بھی پشاور میں ہونے والے سیاسی جلسے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے حکام نے بتایا ہے کہ منگل کی شب ہونے والے اس دھماکے کے مزید سات زخمی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے اور ایک بیان میں عوام کو اے این پی کے دفاتر اور ان کے جلسوں اور کارنر میٹنگ سے دور نہ رہنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکہ منگل کو رات 11 بجے کے قریب ہوا جب یکہ توت کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ جاری تھی جس میں شرکت کے لیے ہارون بلور پہنچے تو انہیں خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جلسے کے دوران جیسے ہی ہارون بلور کو تقریر کیلئے سٹیج پر بلایا گیا تو دھماکہ ہو گیا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی تھی اور احتجاج شروع کر دیا تھا۔ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہارون بلور کی ہلاکت کی خبر ملنے پر مشتعل ہونے والے کارکنوں نے توڑ پھوڑ بھی کی جس کے بعد حالات قابو میں لانے کے لیے انتظامیہ کو فوج کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ خیال رہے کہ یہ انتخابی مہم کے آغاز کے بعد خیبر پختونخوا میں کسی امیدوار کو نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سات جولائی کو بنوں میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کے قافلے پر بھی بم حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔ پشاور میں بلور خاندان اہم سیاسی خاندان سمجھا جاتا ہے۔ ہارون بلور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما بشیر بلور کے بیٹے ہیں جو دسمبر 2012 میں پشاور میں ہی پارٹی کے ایک جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں