حلقہ پنچایتوں کے ذریعہ سرپنچوں کا براہ راست انتخابات ریاستی انتظامی کونسل کی ایک اور میٹنگ میں اہم فیصلے

سرینگر/گورنر این این ووہرا نے کل یہاں ریاستی انتظامی کونسل کی چوتھی میٹنگ کی صدارت کی۔گورنر کے مشیر بی بی ویاس، کے۔ وجے کمار اور خورشید احمد گنائی کے علاوہ چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم نے میٹنگ میںشرکت کی۔ ریاستی انتظامی کونسل نے جموں اینڈکشمیر پنچائتی راج ایکٹ1989 /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کی ترمیم کی تجویز کو منظوری دی تا کہ حلقہ پنچائتوں کے ذریعے سرپنچوں کا انتخاب براہِ راست عمل میں لایا جاسکے۔ اس طرح سے جموں اینڈ کشمیر پنچائتی راج ایکٹ1989 کی اصلی حالت کو بحال کیا جائے گا جس کے تحت سرپنچوں کا انتخاب براہِ راست کیا جاسکتا ہے۔اس ترمیم کی تجویز کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ پنچائتی راج نظام میں سرپنچوں کی اہمیت اُجاگر ہو اور انہیں اپنے فرائض منصبی انجام دینے میں مکمل اختیار حاصل ہو۔اس ترمیم کی بدولت ترقیاتی عمل میں تیزی لانے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جس سے مقامی ضروریات پوری کی جائیں گی۔اس عمل سے پنچائتی راج نظام میں استحکام آئے گا اور مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی عمل میں تیزی آئے گی۔براہِ راست انتخابات کی وجہ سے سرپنچ لوگوں کے سامنے جوابدہ بنیں گے۔ اس کے علاوہ اس ترمیم سے جموں اینڈ کشمیر پنچائتی راج ایکٹ کی73 ویں آئینی ترمیم بھی مستحکم ہوگی۔ریاستی انتظامی کونسل نے دیہی ترقی اور پنچائتی راج محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ ریاست کے چیف الیکٹورل افسر کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد پنچائتی انتخابات منعقد کرانے کے عمل کی شروعات کریں۔پنچائتی انتخابات منعقد کرانے سے ریاست میں دیہی سطح پر مقامی سیلف گورننس کے ادارے کا احیائ نو یقینی بنے گا اور اس طرح سے زمینی سطح پر اختیارات کی تفویض و تقسیم سے موثر منصوبے ترتیب دیئے جاسکیں گے۔اس سے منصوبہ بندی میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور مقامی سطح کی پالیسیوں اور پروگراموں کے علاوہ فیصلہ سازی کے عمل میں بھی لوگوں کی شرکت یقینی بنے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں