ترہگاممیں کرفیو نافذ جاں بحق ہونیوالے نوجوان کو آہوں اور سسکیوں کے بیچ سپردخاک کیاگیا
پولیس نے فوج کیخلاف مقدمہ درج کرلیا، مجسٹرئیل انکوائری کے بھی احکامات

کپوارہ / محسن کشمیری / عابد نبی / طارق راتھر/ کے این ایس / ترہگام کپوارہ میں فوج کی فائرنگ سے جاں بحق ہو ئے 20سالہ نوجوان کو اسلام و آزادی کے نعروں کی گونج کے بیچ جمعرات کی دو پہر ہزاروں لو گوں کی مو جو د گی میں سپرد لحدکر دیا گیا۔اس دوران انتظامیہ نے پُر تنائو صورتحال کے پیش نظر قصبہ ترہگام میں کرفیو جیسی بندشیں عائد کی تھی جبکہ ضلع بھر کے حساس مقامات پر سیکورٹی کے کڑے انتظامات عمل میں لائے گئے تھے ۔/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
ادھر افواہ بازی پر روک لگانے کے لئے ضلع بھر میں مو بائیل انٹر نیٹ سہولیات کو معطل رکھا تھا جبکہ امکانی مظاہروں کے پیش نظر ضلع بھر میں تعلیمی سر گر میاں بھی معطل رکھنے کے احکامات صادر کئے گئے تھے ۔اس دورا ن ترہگام میں نو جوان کی ہلاکت کو لے کر ضلع کپوار کے اکثر مقامات ہڑتال کی گئی جس کے دوران یہاں تمام کارو باری ادارے ،تجارتی مراکز اور دکانات کے علاوہ تعلیمی ادارے بھی بند رہے ۔ادھر انتظامیہ کی جانب سے فوج کے خلاف کیس درج کر کے مجسٹرائل انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ہیں اور تحقیقاتی ٹیم کو ایک ماہ کے اندر اندر مفصل رپورٹ جمع کر نے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں ۔ شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام علاقے میں بدھ کی شام فوج کی راست فائرنگ سے جاں بحق 20سالہ خالد غفار ولد عبدل غفار ملک ساکنہ ترہگام کپوارہ کو جمعرات کے صبح 10 بجے کے قریب علاقے کے مزار شہدا میں ہزروں لوگوں کی موجود گی میں سپر لحد کیا گیا ۔ جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعدادنے علاقے میں سخت ہرتال اور فورسز کی جانب سے سخت بندشوں کے باوجود دور دروز علاقوں سے پیدل ،موٹر سائیکلوںاور گاڑی کے چھتوں پر سوار ہو کر مہلوک نوجوان کے گھر تعزیت پرسی کرنے کے بعد نماز جنازے میں شریک ہوئے ۔جہاں جنازے میں شامل لوگوں نے ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کر کے اسلام اور آزادی کے حق میں زبردست نعرے بازی کی جس کے دوران علاقے میں پتھراو کے چند واقعات بھی پیش آئے ۔مہلوک نوجوان کی ہلاکت کے خلاف ترہگام سمیت میںمکمل ہڑتال کے دوران تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر تعلیمی اور تجارتی ادرے مکمل بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے بر ابر رہی جس کے دوران قصبے میں سڑکوں سے تمام قسم کا ٹرانسپوٹ مکمل طور بند رہا جس کے نتیجے میں سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کر رہے ترتھے ۔نمائندے نے بتایا کہ کپوارہ کے اکثر مقامات جن میں ترہگام ،بوہی پورہ ،ریگی پورہ ،سلکوٹ ،لنگیٹ ،کرالہ گنڈ اور دیگر کئی علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ اس دوران سڑکوں پر بھی ٹریفک کی نقل و حمل متاثر رہی ۔نمائندے نے بتایا کہ نو جوان کی ہلاکت کو لے کر ضلع بھر میں تشویش کی لہر پائی جارہی تھی ۔ضلع میں امن و قاون کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے انتظامیہ نے گزشتہ شام ہی ضلع میں تمام تعلیمی اداروں کو مکمل بند رکھنے کا اعلان کیاتھا جبکہ ضلع بھر کے حساس مقامات پر سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے ۔خیال رہے سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام علاقے میں بدھ کی شام علاقے میں کچھ نوجوانوں نے علاقے سے گزر رہی ایک فوجی پارٹی پر پتھراو کیا ۔جس کے دوران فوجی اہلکاروں نے پتھرائو کرنے والے نوجوانوں پر راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2نوجوان بری طرح زخمی ہوئے جن کو فوری طور نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں20سالہ خالد غفار ملک ولد عبدالغفار ملک زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑ بیٹھا تھاجبکہ دوسرا نوجوان اسپتال میں زیر علاج ہے واقعے کی اطلاع پھیلتے ہی علاقے میں لوگوں نے گزشتہ شام ہی زبردست احتجاجی مظاہرے شروع کئے جو رات بھر جاری رہے مقامی لوگوں نے کے این ایس کو بتایا کہ علاقے میں بدھ کے روز کئی بار معمولی نو عیت کی سنگ بازی واقعات رونمائ ہو ئے جہاں فوج نے بلا اشتعال راست فائرنگ کی جس میں مزکورہ نوجوان جاں بحق اور دوسرا بری طرح زخمی ہواہے جہاں علاقے میں واقعے خے خلاف لوگوں میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ خالد غفار پیشہ سے دکاندار تھا اور وہ ترہگام بازار میں اپنی روزی روٹی کماتا تھا ۔ازرائع نے بتایا کہ خالد کے 2بھائی پولیس محکمہ میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ اس کا ایک بھائی فوج میں بطور سپاہی بھرتی ہوا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ نو جوا ن کی ہلاکت کو لے کر علاقے میں شدید قسم کا غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ دریںاثنا شمالی کشمیر کپوارہ کے ترہگام میں شہری ہلاکت کا سنجیدہ نو ٹس لیتے ہو ئے ریاستی انتظامیہ نے واقعے سے متعلق مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادر کرتے ہو ئے ایک ماہ کے اندر واقعے سے متعلق جامع رپورٹ پیش کر نے کی ہدایت جاری کردی ہے ۔اس دوران پولیس نے فوج کے خلاف با ضا بطہ طور مقدمہ در ج کرتے ہو ئے تحقیقات شروع کر دی ۔اس دوران اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے ایک در خواست کی سماعت کرتے ہو ئے واقعے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کپوارہ اور ایس ایس پی کپوارہ کو 20اگست سے پہلے کمیشن میں مفصل رپوٹ جمع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق شمالی کشمیر کے کپوارہ میں فوج کی راست فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ نے جمعرات کو فوج کے خلاف کیس درج کر کے مجسٹریل انکوری کے احکامات صادر کئے۔ سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہ گام علاقے میں فورج کی راست فائرنگ سے بدھ کے روز پیش آئے واقعے جس میںعلاقے سے تعلق رکھنے والے ایک20سالہ نوجوان خالد غفار ولد عبد الغفار ملک ساکنہ ترہگام کی ہلاکت کے بعد ضلع انتظامیہ کپوارہ نے باضابطہ طور فوج کے خلاف ایک کیس زیر نمبر46/2018زیر دفعات 147, 148, 323, 306, 307,پولیس اسٹیشن ترہگام میں درج کر کے کیس کے سلسلے میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ڈپٹی کمشنر کپوارہ خالد جانگیر نے بتایا واقعے کے متعلق فوج کے خلاف کیس درج کرنے کے علاوہ واقعے کی نسبت سے مجسٹریل انکوئری کے بھی احکامات صادر کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایڈ شنل ضلع کمشنر ہندوارہ مظفر حسین کو انکوائری افسر مقرر کر کے ایک مہینے کے اندر اندر رپوٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس دوران اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے واقعے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کپوارہ اور ایس ایس پی کپوارہ کو 20اگست سے پہلے کمیشن میں رپوٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ واضح رہے شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع ترہ گام کپوارہ میں بدھ کی شام کو کچھ نوجوانوں نے علاقے سے گزر رہی ایک فوج ایک پارٹی پر پتھراو کیا جس کے دوران فوجی اہلکاروں نے پتھراو کرنے والے نوجوانوں پر راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو نوجوان گولی لگنے سے بری طرح زخمی ہوئے جن کو فوری طور اسپتال منتقل کیا گیا ۔جہاں بعد میںایک زخمی نوجوان 22سالہ خالد غفار ولد عبدل غفارملک زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا جبکہ ایک اورزخمی نوجوان اسپتال میں زیر علاج ہے علاقے میں شہری ہلاکت کے خلاف جمعارت کو مکمل ہڑتال کے دوران آبادی میں شہری ہلاکتون کے خلاف بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ 

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں