سکولوں میں پانچویں سے نویں جماعت تک کے امتحانات منعقد کروانے کی اجازت نہ دینے پر احتجاج ،سرکاری احکامات واپس لئے جائیں:قیوم وانی

سرینگر/سکولوں میں فسٹ ٹرم کے امتحانات بھی ابھی تک اختتام کو نہیں پہنچے ہیں جس کی بنا پر سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کا قیمتی وقت ضایع ہورہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ نے فسٹ ٹرم کے امتحانات دئے ہیں اور وہ سیکنڈ ٹرم کے امتحانات کی تیاریوں میں مشغول ہیں ۔اس بات کا انکشاف معروف ٹریڈ یونین لیڈر اور ماہر تعلیم عبدالقیوم وانی نے کل یہاں کیا ۔انہوں نے آفتاب کو بتایا کہ سرکار نے ایس آئی اے کو امتحانات کی ذمہ داری سونپی ہے جبکہ موجودہ نامساعد حالات کے نتیجے میں اس ادارے کے لئے وقت پر امتحانات کا انعقاد ناممکن بن رہا ہے ۔قیوم وانی نے کہا کہ ان حالات میں حکومت نے پرائیویٹ سکولوں کو اپنی سطح پر پانچویں سے نویں جماعت تک کے امتحانات کے انعقاد کی اجازت دی ہے لیکن سرکاری سکولوں کے لئے ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم غریب والدین کے بچوں کا قیمتی وقت ضایع ہورہا ہے کیونکہ وہ گھروں میں بیٹھے ہیں اور ہر دوسرے تیسرے دن کبھی سکول بند ہوتے ہیں کبھی ہڑتال اور تو کبھی کسی دوسری وجہ کی بنا پر وقت پر امتحانات نہیں لئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اگر چاہتی ہے کہ سرکاری سکولوں کے بچے بھی کچھ لکھ پڑھ سکیں تو فوری طور پر پانچویں جماعت کے امتحانات سکول یا کلسٹر سطح پرکروانے کے احکامات صاد ر کئے جانے چاہئے ۔قیوم صاحب نے ایس آئی ای کی طرف سے پانچویں سے نویں تک کے امتحانات کے انعقاد کو نادر شاہی احکامات سے تعبیر کرتے ہوے کہا کہ سرکاری سکولوں پر پابندی جبکہ پرائیویٹ سکولوں کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ سکول سطح پرپانچویں سے نویں تک کے امتحانات اپنے سکولوں میں ہی منعقد کریں پر زبردست ردعمل کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ اس سے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی اعتباریت پر سوالیہ لگ گیا ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور سرکاری سکولوں میں بھی امتحانات کے انعقاد کا اعلان کرے تاکہ غریب بچوں کا قیمتی وقت ضایع ہونے سے بچ جاے گا ۔انہوں نے کہا کہ جب سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو اونر شپ دی جاے گی تو اس کے مثبت نتایج بر آمد ہوسکتے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں