شہری ہلاکتوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے پر سید علی گیلانی کااظہار تشویش 13/جولائی 31ئ ÷ کو موجودہ تحریک کا نقشہ راہ قراردیا

سرینگر://چیرمین حریت ’گ‘ سید علی گیلانی نے بھارت کی قابض افواج اور پولیس ٹاسک فورس کے ہاتھوں معصوم شہریوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کئے جانے کی وارداتوں کا نہ ختم ہونے والے سلسلے پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کو حقِ خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں انتہائی بے رحمی کے ساتھ تہہ تیغ کیا جارہا ہے اور دنیائے انسانیت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ حریت راہنما نے میمندر شوپیان کے 9برس کے معصوم طالب علم سالک اقبال اور ترہگام کپواڑہ کے ایک اور طالب علم خالد غفار ملک کو بھارت کی افواج کی راست فائرنگ کے نتیجے میں ان کے سفاکانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان معصوم شہدائ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا۔ بزرگ راہنما نے بھارت کے ارباب اقتدار کی طرف سے ریاست کے عام شہریوں کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے تختۂ مشق بنائے جانے کی تازہ ترین تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ 13/جولائی 1931÷ئ سے شروع کیا گیا ہے اور ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لیتا ہے۔ 1931÷ئ کے شہدائ کو زبردست خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے حریت راہنما نے 13/جولائی 1931÷ئ کو موجودہ تحریک حقِ خودارادیت کے حوالے سے اِسے ایک سنگ میل یا نقشہ راہ قرار دیا۔ حریت راہنما نے اس نقشہ راہ کے مطابق اپنے منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے عزم بالجزم کے ساتھ وابستہ رہنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان شہدائ نے اپنے مقدس لہو سے ہماری تحریک مزاحمت کا عنوان رقم کردیا ہے۔ حریت راہنما نے 13/جولائی کے یومِ شہدائ کے حوالے سے اپنی غیور قوم کے نام اپنے پیغام میں دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو ان شہدائ کے مقدس لہو سے سینچی ہوئی تحریک آزادی کے نقیب اور امین بن کر اس مقدس تحریک کے ساتھ وفا کرنے کا عہد کرلینا چاہیے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں