کروشیا نے انگلینڈ کے خواب کو کیا چکنا چور

ماسکو/نہایت دلچسپ ،سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد 109ویں منٹ میں ماریو منڈزوکک کے شاندار گول کی بدولت کروشیا نے انگلینڈ کو 2-1سے شکست دیکر پہلی بار عالمی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا جہاں اس کا خطابی مقابلہ سابق چیمپئن فرانس سے ہوگا۔ فائنل ماسکو کے لوزنیکی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔تیسری پوزیشن کا میچ ہفتے کو سینٹ پیٹرز برگ کے کرستوسکی فٹ بال اسٹیڈیم میں بلجیم اورانگلینڈکے درمیان ہوگا۔انگلینڈ آخری بار 1990میں سیمی فائنل میں پہنچا تھا۔ 28سال کے بعد انگلینڈنے ورلڈ کپ فٹ بال کے سیمی فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا لیکن کروشیا کے جذبے نے اس کی فائنل میں پہنچنے کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا ۔ انگلینڈ اور کروشیا کے درمیان فیفا عالمی کپ میں یہ پہلا مقابلہ تھا۔ حالانکہ دونوں بین الاقوامی سطح پر سات مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر چکے ہیں۔ ان 8 مقابلوں میں انگلینڈ نے چار مرتبہ فتح حاصل کی جبکہ کروشیا کے ہاتھوں تین فتوحات ہی لگی ہیں۔لوزنیکی اسٹیڈیم ماسکو میں انگلینڈ اورکروشیا کے درمیان دوسرا سیمی فائنل انتہائی سنسنی خیز رہا۔ میچ کے آغاز پر انگلینڈ کی ٹیم حاوی تھی اور پانچویں ہی منٹ میں کروشین کھلاڑی نے ٹاپ ڈی پر انگلینڈ کے کھلاڑی کو گرایا جس پر انگلینڈ کو ٹاپ ڈی پر فری ہٹ ملی جس پر ٹرائی پائر نے خوبصورت ہٹ لگا کر گیند کو نیٹ کے کارنر میں ڈال کر اپنی ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔10 ویں منٹ میں میچ کا پہلا کارنر کروشین ٹیم کو ملا لیکن اسے انگلینڈ کے دفاعی کھلاڑیوں نے ناکام بنا دیا۔ پہلے ہاف میں انگلش ٹیم کروشین پرحاوی رہی۔ کروشیا نے پانچ اور انگلینڈ نے تین کارنر حاصل کئے ۔دوسرے ہاف کے 68 ویں منٹ میں کروشیا کے پریسک نے خوبصورت گول کرکے میچ ایک ایک گول سے برابر کردیا۔ عالمی کپ سیمی فائنل میں 18 موقعوں میں یہ صرف دوسری بار ہوا جب ہاف ٹائم تک سبقت بنانے والی ٹیم کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس سے قبل 1990 میں اٹلی کی ٹیم ارجنٹینا کے خلاف سبقت حاصل کرنے کے باوجود پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ہار گئی تھی۔اس کے بعد کروشین ٹیم کی کارکردگی انتہائی جارحانہ رہی اور اس نے تواتر کے ساتھ انگلینڈ کے گول پر کئی حملے کئے لیکن بدقسمتی سے گول نہ ہوسکا۔میچ کے چوتھے منٹ میں ڈیلی ایلی کو گرانے پر انگلینڈ کو فری کک ملی جس پر کیرن تریپیئر نے گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔اس گول کی بدولت تریپیئر سابق کپتان ڈیوڈ بیکہم کے بعد ورلڈ کپ میں فری کک پر گول کرنے والے پہلے انگلش کھلاڑی بن گئے جہاں بیکہم نے 1998 اور 2006 ورلڈ کپ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔اس گول کے بعد میچ کے ختم ہونے میں چند منٹ ہی باقی تھے اور اس نے بھرپور کوشش کی کہ گول کا خسارہ ختم کیا جا سکے لیکن کروشیا کے عمدہ دفاع کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔میچ کے 30ویں منٹ میں انگلینڈ کو برتری دگنی کا اس وقت نادر موقع ملا جب لنگارڈ نے کپتان ہیری کین کو شاندار پاس دیا لیکن کروشیا کے گول کیپر نے عمدہ دفاع کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو بڑے خسارے میں جانے سے بچا لیا۔میچ کے پہلے ہاف میں کروشیا کی ٹیم نے گیند کا کنٹرول زیادہ تر اپنے پاس رکھا لیکن وہ گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔دوسرے ہاف میں میچ کے 68ویں منٹ میں کروشیا کے پیریسک نے گیند کو جال میں پہنچا کر مقابلہ برابر کردیا۔اس کے بعد کروشیا کی ٹیم نے دوسرے ہاف کے اختتام تک انتہائی شاندار اور جارحانہ فٹبال کھیلی جس کا انگلینڈ کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں