کشمیرکی خصوصی پوزیشن موضوع بحث کیوں؟

آئین کی دفعہ 35Aکے دفاع میں اس وقت کشمیری عوام مصروف احتجاج ہیں۔ جمعرات کو تاجروں، صنعت کاروں اور سول سوسائیٹی کیطرفسے جلوس نکالا گیا اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے انہوں نے بتایا کہ کشمیری عوام اس دفعہ کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے خون کا آخری قطرہ تک بہاینگے۔ مظاہرین نے پرامن جلوس نکالا اور حکومت ہند پر یہ بات واضح کردی گئی کہ وہ کسی بھی صورت میں اس دفعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش نہ کرے ورنہ اس کے نتایج بقول ان کے سنگین نکل سکتے ہیں۔ اس کے دوسرے دن بھی مختلف مقامات پر وکلائ اور دوسرے لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور دھرنا دیا۔ جبکہ فروٹ منڈی میں بھی ہزاروں فروٹ گروورس اور میوہ باغوں کے مالکان اور تاجروں نے احتجاجی دھرنا دیا اور کہا کہ اگر اس ایکٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی گئی تو پوری ریاست میں بقول ان کے ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی۔ کل بھی نماز جمعہ کے بعد لوگوں نے مظاہرے کئے اور کئی مقامات پر جلوس نکالے گئے۔ انہوں نے اس دفعہ کو کشمیر یت کی پہچان اورشان قرار دیا اور کہا کہ اگر اس دفعہ کو ہٹایاگیاتوکشمیر اورکشمیریت کی شناخت ختم ہوجائے گی۔ غرض اس وقت پوری ریاست میں طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے اور لوگ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اس بات کے حق میں ہیں کہ اس دفعہ کو کسی بھی صورت میں نہ چھیڑا جائے۔ کیونکہ اگر عدالت کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق نہیں ہوگا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔ ابھی تک عام لوگوں کو اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ آئین کی دفعہ 35Aغیر ریاستی شہریوں کو جموں کشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے، غیر منقولہ جائیداد خریدنے، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے، ووٹ ڈالنے اور دوسری سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35Aدراصل دفعہ 370کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے۔ سال 1953میں جموں کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیر آئینی معزولی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین میں دفعہ 35Aکو بھی شامل کیاگیا ۔جس کی رو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہوئی ۔10اکتوبر 2015کو جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ 370کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرارد یتے ہوئے کہا کہ دفعہ 35Aجموں کشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ چنانچہ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ دفعہ 35Aکا دفاع کرنا ہمارے لئے سب سے بڑا چلینج ہے۔ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ یہ دفعات کشمیر کی پہچان، الگ آئین اور الگ جھنڈے کو آئین ہند میں تحفظ فراہم کرتی ہیں اور ان دفعات کا محافظ بن کر دفاع کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ دفعہ 370ریاست کی آئین ساز اسمبلی نے مرتب کیا ہے اور اس آئین ساز اسمبلی کے بغیر کوئی بھی طاقت یہاں تک کہ صدر ہند اور سپریم کورٹ بھی اس میں نہ تو تو سیع کرسکتی ہے اور نہ ہی تخفیف کرسکتی ہیں۔ کشمیری عوام کا یہ ماننا ہے کہ دفعہ 35Aاور دفعہ 370سے ہی آج تک جموں کشمیر کی شناخت قایم ہے اور ان کے نہ رہنے سے ہمارا وجود ختم ہوجائے گا اور ہماری تہذیب و تمدن کا نام و نشان تک باقی نہیں رہ جائے گا۔ قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ گجرات سمیت متعدد ریاستوں میں باہر کے لوگ زمین نہیں خرید سکتے ہیں۔ پھر جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون ہی موضوع بحث کیوں ؟

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں