جعلی سٹیٹ سبجیکٹ ہولڈروں کو بے نقاب کیاجائے

گذشتہ کئی برسوں سے عوامی حلقے اس بات پر نالاں ہیں کہ جن لوگوں نے جعلی سٹیٹ سبجیکٹ سرٹفیکیٹ حاصل کی ہیں ان کو بے نقاب کرکے ریاست بد ر کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ انہوں نے تجارت، صنعت و حرفت اور سرکاری نوکریوں پر قبضہ جماکر اس ریاست کے پشتینی باشندوں کے حقوق پرشب خون مارا ہے لیکن اب تک ایسے لوگوں کیخلاف کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی ہے اور وہ برابر اپنی پوزیشنوں پر براجمان ہیں۔ جب سے ایک غیر معروف این جی او کی طرف سے آرٹیکل 35Aکیخلاف سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائیر کی گئی ہے تب سے لوگوں میں زبردست بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور لوگ اب یہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ جن افراد نے یہاں جعلی سٹیٹ سبجیکٹ حاصل کی ہیں ان کیخلاف کاروائی کرکے ان کو اپنی پوزیشنوں سے بے دخل کرکے ان کو ریاست بدر کیا جائے اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس سامنے آگئی ہے جس کے جموں کے ایک لیڈر دیوندر سنگھ رانا نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ جعلی سٹیٹ سبجیکٹ رکھنے والوں کیخلاف کاروائی کرکے ان کو نہ صرف ریاست بدر کریں بلکہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائے کہ انہوں نے کسطرح یہ اسناد حاصل کی ہیں۔ مسٹر رانا نے اپنے میمورنڈم، جو انہوں نے گورنر کو پیش کیا میں انہوں نے کہا کہ سال 1927سے مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے لائے گئے سٹیٹ سبجیکٹ سے چھیڑ چھاڑ کرنے کیلئے چند مفاد خصوصی رکھنے والے اب بھی اپنی مذموم کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جن کیخلاف سخت کاروائی کی ضرورت ہے۔ نیشنل کانفرنس کے اس مطالبے کی ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ناگا لینڈ، میزورم، سکم، ارونا چل پردیش، آسام، منی پورآندھر پردیش اور گوا جیسی ریاستوں کے لوگوں کو بھی دفعہ 371کی ذیلی سیکشن اے سی جی کی مختلف شقوں کے تحت تحفظ فراہم ہے۔ سٹیٹ سبجیکٹ کمیشن کی طرف سے سال 2011 2012اور سال 2013کو تشکیل دی گئی رپورٹو ں کے بارے میں اب تک کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ کشمیری عوام کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ جعلی سٹیٹ سبجیکٹ ہولڈر کشمیری عوام جن میں تاجر اور طلبہ شامل ہیں کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن کر ابھر رہے ہیں کیونکہ یہاں کی تجارت پر ان ہی کا مکمل قبضہ ہے اور مستحق نوجوان سرکاری نوکریوں سے محروم ہیں۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کیخلاف سخت کاروائی کی جائے جنہوں نے جعلی سٹیٹ سبجیکٹ حاصل کی ہیں اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے مزید کہا کہ جے کے گرانٹ آف پی آر سی پروسیجر رولز1969کے رول 8کے تحت ایسے افسروں کیخلاف کاروائی فوری طور عمل میں لائی جائے۔ یہاں وادی میں بھی وقتاًفوقتاًایسی اطلاعات ملتی رہتی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں شخص کے پاس جعلی سٹیٹ سبجیکٹ ہے لیکن ان کے خلاف روائیتی کاروائی کرنے کے بعد معاملہ سرد خانے میں ڈالا جاتا رہا ہے۔ سٹیٹ سبجیکٹ کشمیری عوام کے جائیز مفادات کا تحفظ ہے۔ بہت سے لوگوں نے جعلی سٹیٹ سبجیکٹ حاصل کی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہاں کے نوجوانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جن لوگوں نے جعلی سٹیٹ سبجیکٹ حاصل کی ہے ان کو فوری طور بے نقاب کیا جائے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں