آرٹیکل 35-A  کا معاملہ

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکے خلاف دائر پٹیشن پر کل سماعت موخر کردی گئی اور اب اس پر 27اگست کو سماعت ہوگی ۔ لیکن مسئلہ پٹیشن کوموخر کرنے کا نہیں ہے بلکہ اس پیٹیشن کو مکمل طور پر خارج کرنا ہے کیونکہ ریاست میں مہاراجہ نے سال 1927میں جو قانون نافذ کئے تھے ان کی سال 1954میں آئین ساز اسمبلی نے توثیق کردی اس طرح قانونی ماہرین کے مطابق عدلیہ کا اس میں کوئی بھی رول نہیں رہا ہے اور صدر کی طرف سے جاری آرڈیننس اسی صورت میں ہٹائے جاسکتے ہیں جب ریاستی قانون ساز اسمبلی اس بارے میں اتفاق رائے سے قراردادپاس کریگی۔ کل یعنی 6اگست کو سپریم کورٹ میں تین ججوں کی بنچ نے اسے موخر کردیا لیکن قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ چونکہ کسی بھی عدالت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس دفعہ کو ہٹاسکے اس پیٹیشن کو مکمل طور پر خارج کیاجاناچاہئے۔ ورنہ کشمیری عوام میں بے چینی کا سدباب نہیں ہوگا اور لوگ برابر اس حوالے سے فکر و تشویش میں مبتلا رہیںگے۔ کشمیر سے باہر کشمیر اور کشمیریوں کیخلاف ایک پروپا گنڈا مہم چلائی جارہی ہے جبکہ کشمیری ایسے نہیں۔ اس وقت بھی یہاں سیاح آکر قدرتی حسن سے مالامال وادی کا نظارہ کرتے ہیں اور وہ یہاںکے حالات کو پرامن اور پر سکون قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ باہر کی ٹی وی چینلوں پر دکھایا جاتا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتا ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کشمیر اور کشمیر کے لوگ انتہائی مہمان نواز اور اچھے ہیں ۔ بھارت میں جو لوگ کشمیر میں نافذ دفعہ 370کی ذیلی دفعہ 35Aکو ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں ان کو میزورم ،میگھالیہ ،منی پور ،ناگا لینڈ ،آسام ،سکم اور آندھرا پردیش کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ ان ریاستوں میں بھی ایسے ہی قوانین نافذ ہیں جن کی رو سے کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ ان ریاستوں میں نہ تو زمین جائیداد خرید سکتا ہے اور نہ ہی ملازمتوں کیلئے درخواستیں دے سکتا ہے پھر کشمیر کے بارے میں ہی بار بار کن وجوہات کی بنا پر سوالات کھڑے کئے جاتے ہیں۔ کیونکر آرٹیکل 35Aکے بارے میں سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کردی گئی ہے ۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پٹیشن کو موخر کرنے کے بجائے منسوخ کیا جانا چاہئے۔ اس طرح کے مسلئے ابھار کر کشمیر میں انتشار پھیلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جس کے مثبت نتایج برآمد نہیں ہوسکتے ہیں ۔ کشمیری عوام بلا لحاذ و مذہب و ملت او رخطے اس معاملے پر ایک ہیں جس کا اندازہ 5اور 6اگست کو کی گئی ہڑتال سے بخوبی لگائی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ ان دو دنوں میں نہ صرف وادی کشمیر بلکہ لداخ ، خطہ چناب اور جموں کے دوچار محلوں کو چھوڑ کر ہر جگہ مثالی ہڑتال کی گئی اور لوگوں نے اس آرٹیکل کے مطالبے کے حق میں جگہ جگہ پر امن احتجاج کیا اور ریلیاںبر آمد کر لی گئیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں