رفیع آباد میں ایک اور جنگجو جاں بحق تعداد پانچ ہوگئی، لیکن کسی کی شناخت نہیں ہوسکی

شمالی کشمیر/ عابد نبی / کے این ایس/ رفیع آباد کے ڈو نی واری جنگلات میںجمعرات کو دوسرے روز جنگجو مخالف آپریشن شروع کر نے کے ساتھ ہی ایک اورجنگجو کوجاں بحق کیا گیا ہے اور اس طرح بدھ کی صبح شروع ہونے والا جنگجو مخالف آپریشن ۵ جنگجوؤں کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوگیا۔ اس دوران ریاستی پولیس کے سر براہ ڈاکٹر ایس پی وید نے رفیع آباد میں ایک اور جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہو ئے بتایا کہ جوں ہی /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
جمعرات کے روز فوج اور فورسز نے دو بارہ آپریشن شروع کیا توجنگلاتی اراضی میں چھپے بیٹھے جنگجو نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے فوراً بعد مذکورہ جنگجو کو بھی جاں بحق کیا گیا اور اس طرح جھڑپ میںکل ملاکر مر نے والے جنگجو ئوں کی تعداد 5تک پہنچ گئی تاہم پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت جاری ہے ۔اس دوران شمالی کشمیر کپوارہ کے تھیئن کلاروس کو فوج اور فورسز نے جنگجو ئوں کی مو جود گی کی اطلاع پر محاصرے میں تلاشی آپریشن شروع کیا تاہم آخری اطلاعات ملنے تک جنگجو ئوں اور فوج کا آمنا سامنا نہیں ہوا ۔ شمالی کشمیر کے رفیع آباد ڈونی واری جنگلات میں جمعرات کو دوسرے روز بھی جنگجو مخالف آپریشن جاری رہا جس دوران فوج اور گھنے جنگلات میں چھپے بیٹھے جنگجو کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز نے مزید ایک جنگجو کو ہلاک کردیا۔ ڈونی واری جنگلات میں بدھ کو شروع ہوئی معرکہ آرائی میں اب تک کل ملاکر 5جنگجوئوں کو جاں بحق کردیا گیا جن کی تحویل سے مختلف قسم کے ہتھیار بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح جونہی سیکورٹی فورسز کی مشترکہ جمعیت نے جنگلاتی علاقے کا گھیرائو تنگ کرتے ہوئے جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کے خلاف آپریشن کو سخت کردیا تو اسی دوران طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس دوران علاقہ گولہ باری سے لرز اٹھا۔ سیکورٹی فورسز نے جنگجوئوں کو نیوٹرلائز کرنے کے لیے علاقے میں فورسز کی اضافی کمک کو طلب کیا جن میں فوج کے پیرا کمانڈوز بھی شامل تھے۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ جنگجوئوں کے خلاف سیکورٹی فورسز نے مورچہ تنگ کرتے ہوئے ڈونی واری جنگلات کے اہم مقامات پر سیکورٹی کے پہرے سخت کرتے ہوئے جنگجوئوں کے خلاف حتمی مرحلے کی جنگ چھیڑدی جس دوران فورسز اہلکاروں نے علاقے کے اندر گھس کر جنگجوئوں کو مار گرانے کے لیے پیش قدمی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران فوجی پارٹی نے جونہی کچھ مسافت طے کی تو اسی دوران جنگلاتی علاقے میںجنگجوئوں نے خودکار ہتھیاروں سے فورسز پارٹی پر حملہ بول دیا جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان شدید گماسان کی لڑائی دوبارہ شروع ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جنگجوئوں کو گھرائو تنگ کیا جس دوران جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے جنگجو کو مار گرایا گیا۔ ادھر بدھوار کی صبح سے شروع ہوئی جھڑپ میں کل ملاکر 5جنگجوئوں کو فوج نے آپریشن کے دوران ہلاک کردیا جن کی شناخت ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔
 انہوں نے بتایا کہ اس دوران فورسز اہلکاروں نے سبھی جنگجوئوں کی نعشوں کو حاصل کرتے ہوئے ان کے قبضے سے مختلف نوعیت کے ہتھیار برآمد کرلیے ہیں۔ یاد رہے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شیش پال وید نے بدھوار کوسماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر معرکہ آرائی سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ’رفیع آباد کے ڈونی واری جنگلات میں مسلح تصادم جاری ہے۔ پانچ جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ہے‘۔ادھر وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ رفیع آباد سوپور کے جنگلی علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فوج، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ ﴿ایس او جی﴾ اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے مذکورہ جنگلی علاقہ میں بدھ کی صبح تلاشی آپریشن شروع کیا۔راجیش کالیا نے بتایا کہ ’جنگجوؤں کی ابتدائی فائرنگ میں ایک فوجی اہلکار زخمی ہوا جسے علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ مسلح تصادم میں اب تک پانچ بھاری مسلح جنگجوؤں کو ہلاک کیا جاچکاہے جن کی ابھی تک شناخت مکمل نہیں ہوپائی۔ دفاعی ترجمان کے مطابق ابھی تک وسیع جنگلاتی علاقے میں تلاشی آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں جنگجو مخالف آپریشن میں فوج کی ۲۳ راشٹریہ رائفلز ،۹ پیرا کمانڈوز اور ریاستی پولیس کے ایس او جی نے حصہ لیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں