35-Aکو ہٹانے کا معاملہ سیکورٹی کونسل بھی فریق بن جاتی ہے : بیگم خالدہ

سرینگر/ عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ آئینی اور اقتصادی رشتوں کی دغا بازی کا آغاز 9 اگست1953 ÷ئ سے شروع ہوا جب مہاراجہ ہری سنگھ کے فرزند ڈاکٹر کرن سنگھ نے شیخ محمد عبداللہ کی حکومت کو ختم کرانے کیلئے /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
جو کاروائی کی اس کا کیا کوئی آئینی،اخلاقی یا قانونی جواز تھا؟ دنیا اب تک اس معمہ کو سمجھ نہیں سکی ہے۔ شیخ صاحب اگر اسمبلی کا اعتماد کھو چکے تھے تو آئینی اور جمہوری طریقہ یہ تھا کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ۔اب 35 A  کی آج بات ہو رہی ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلے دفعہ 370  کے بجائے یہ دفعہ 306 A  تھا جو NC  کی مجلس عاملہ کے غیر معمولی اجلاس سال 1951  ÷ئ میں شیخ صاحب کی سربراہی میں رد کیا گیا۔یہ دفعہ 306 A ہندوستان کے ساتھ مکمل ادغام تھا شیخ صاحب نے ہندوستان کی آئینی ساز اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دیکر دفعہ 370  کا وجود عمل میں لایا ۔یہ امر قابل نے کرہے کہ آج 35 A  کو ہٹانے کا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے جبکہ 1846  ÷ئ میں بیعنامہ امرتسر اور 1952  ÷ئ کے دہلی اگر نمنٹ میں بھی 35 A  کے تحت شہری حقوق کا دفاع ہوا ہے اور آرٹیکل 35 A  کے تحت  ہی ہندوستان نے سیکورٹی کونسل میں متنازعہ کشمیر کے مسائل کی طرف تواجہ دلائی ہے ۔کیا ان حالات میں جب 35 A  کو ہٹا نے اور شہری حقوق کا جنازہ نکالنے کی سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔تو پھر سیکورٹی کونسل بھی خود بخود سپریم کورٹ میں ایک فریق بن جاتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں