یاترا کے اختتام پر نئی حکومت کی تشکیل کے امکانات رام مادھو کا بھاجپا کے سابق وزرائ کے ساتھ طویل صلاح مشورہ  سجادغنی لون کے ساتھ بھی اہم ملاقات کی

سرینگر/ کے این ایس/ ریاست جموںوکشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے اُس وقت پیش رفت دیکھنے کو ملی جب بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری اور کشمیر امور کے ماہر رام مادھو نے پارٹی سے وابستہ سابق وزرا ئ کے ساتھ طویل میٹنگ منعقد کرتے ہوئے یہاں حکومت کی تشکیل نو پر گفت و شنید کی تاہم انہوں نے اس دوران صاف کردیا کہ سابق مخلوط حکومت کی ساجھے دار جماعت پی ڈی پی کے ساتھ حکومت بنانے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا۔ ریاست جموںوکشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے جمعرات کو اُس وقت ایک اہم پیش رفت ہوئی جب بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری اور کشمیر اُمور کے ماہر رام مادھو نے سرینگر میں سابق نائب وزیر اعلیٰ کو یندر گپتا کی رہائش گاہ واقع گپکار پر پارٹی سے وابستہ سابق وزرائ جن میں کویندر گپتا ،ست شر ما،سنیل شر ما ،راجیو جسروٹیا ،بالی بھگت اور دیگر وزرائ شامل تھے کے ساتھ ریاست میں حکومت سازی کے حوالے سے طویل گفت و شنید کی ۔زرائع نے کے این ایس کو بتایا کہ ریاست میں حکومت سازی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے بی جے پی کے قو می جنرل سیکریٹی رام ماد ھو نے پارٹی کے سینئر لیڈران کے ساتھ 2گھنٹے کی طویل میٹنگ کی جس دوران ریاست کی مجمو عی سیکورٹی صورتحال کے علاوہ یہاں حکومت سازی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ذ رائع نے بتایا کہ اس دوران میٹنگ میں شامل پارٹی ممبران نے ریاست جموں کشمیر میں حکومت کی تشکیل نو سے متعلق مختلف پہلوئوں پر غو روخوض کیا گیا تاہم اس دوران یہ طے پایا کہ سابق مخلو ط حکومت کی ساجھے دار جماعت پی ڈی پی کے ساتھ حکومت بنا نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ۔ذرائع نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں ریاستی بی جے پی کے لیڈران دہلی میں پارٹی ہائی کمانڈ کے ساتھ اہم میٹنگ کریں گے جس کے بعد ہی ریاست میں حکومت سازی کو ہری جھنڈی مل سکتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران پی ڈی پی کے بغیر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل کے بارے /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
میں کئی امور زیر غور آئے ۔اس دوران میٹنگ کے دوران یہ بات بھی زیر غور آئی کہ ریاست میں تعمیر و ترقی کے لئے نئی حکومت کی تشکیل ناگزیر عمل ہے ۔انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران اس پر بھی بات ہو ئی کہ ابھی یاست جموں کشمیر میں انتخابات کو 2سال سے زیادہ وقت باقی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ لو گوں کو ایک جمہوری حکومت فراہم کی جائے اور انہیں اپنے چنے ہو ئے نمائندوں کے ذ ریعے سے مسائل حل ہوں ۔انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ریاست جموں کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے خاندانی راج قائم تھا جس کی بنیاد پر ریاست کی تعمیر و ترقی میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع نہیں ہو ئی جبکہ یہاں پر کرپشن کا بھی بول بالا رہا ۔میٹنگ کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ریاستی عوام کے لئے ایک نیا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جو ریاست جموں کشمیر میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گی ۔بی جے پی ذرائع نے کے این ایس کو بتایا کہ میٹنگ کے اختتام کے بعد پار ٹی کے جنرل سیکریٹری رام ما دھو سیدھے پیپلز کانفرنس کے چیر مین اور سابق وزیر سجاد غنی لون کی رہائش گاہ پر پہنچے اور یہاں پر بھی رام مادھو اور سجاد لون کے در میان حکومت سازی کے حوالے سے اہم گفت و شنید ہو ئی۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں حکومت سازی کے حوالے سے کئی معاملات زیر گور ہے اور آنے والے دنوں کے اندر ریاست جموں کشمیر میں حکومت سازی کی تشکیل کے لئے پیش رفت ہو نے کا امکان ہے ۔واضح رہے کہ 19جون کو ریاست میں گور نر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی و غیر سیاسی حلقوں میں حکومت سازی کے حوالے سے مختلف قسم کی چہ مگو ئیاں کی جارہی ہیں ۔ادھر سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے بار ہا یہ بیانات سامنے آئے کہ امر ناتھ یاترا کے اختتام کے بعد ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے پیش رفت دیکھنے کو ملے گی جس کے لئے بی جے پی در پر دہ طور پر مختلف سیاسی جماعتوں کے ممبران سے جو حکومت سازی کے حوالے سے پر تو ل مار رہیں کے ساتھ را بطے میں ہیں جس کی بنیاد پر آنے والے وقت میں حکومت سازی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہو نے کا قوی امکان ہے تاہم ریاست میں سیاسی اکھاڈے میں غیر یقینی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہو ئے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا ۔ 

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں